fbpx

روپے کی قدر میں استحکام کے اثرات غریب عوام تک منتقل کئے جائیں , میاں زاہد حسین

ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اورسابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں استحکام خوشگوار ہے تاہم اسکے اثرات غریب عوام تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔روپے کی قدر بڑھانے میں ترسیلات نے بنیادی کردار ادا کیا ہے جس سے جاری حسابات کا خسارہ ختم تو نہیں ہوا مگراس کی صورتحال اطمینان بخش ہو گئی ہے۔
اس رجحان کو موجودہ مالی سال کے باقی ماندہ مہینوں اور اگلے مالی سال میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مارچ کے مقابلہ میں اس سال مارچ میں ڈالر کی قدر میں چودہ روپے سے زیادہ کی کمی آ چکی ہے۔انھوں نے کہا کہ ا سٹیٹ بینک نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس متعارف کروا کے احسن اقدام کیا ہے جس کے بعد سے دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے لئے اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے نئے راستے کھل گئے ہیں اور اس میں اب تک آٹھ سو چھ ملین ڈالرکی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جس میں سے صرف مارچ کے مہینے میں 212 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جو خوش آئند ہے جس پر مرکزی بینک اورگورنرا سٹیٹ بینک ڈاکٹررضاباقر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اگرترسیلات میں اضافہ جاری رہا اور اس اکاؤنٹ میں اسی طرح سرمایہ کاری ہوتی رہی تو جلد ہی ڈالرکی قدر ایک سو پچاس روپے تک گھٹ سکتی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.