fbpx

روسی وزیر خارجہ اور ہمارے وزیر خارجہ میں چھتری کا فرق

روسی وزیر خارجہ اور ہمارے وزیر خارجہ میں چھتری کا فرق

باغی ٹی وی ، روسی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد ایک تاریخی دورے کے طور پر دیکھی جارہی ہے لیکن ان کی آمد سے کئی باتیں بھی زیر گردش ہیں . روسی وزیر خارجہ جب پاکستان آئے اور ایئر پورٹ پر اترے تو انہوں نے چھتری پکڑ رکھی تھی اور اس چھتری کو بذات خود تھام رکھا تھا . جبکہ ان کے ساتھ ہی ان کے ہم منصب اور ہمارے وطن پاکستان کے وزیر خارجہ بھی ساتھ تھے لیکن ان کے سر پر کسی ملازم یا نوکر نے چھتری تان رکھی تھی . ان کو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ میرے ہم منصب نے خود چھتری پکڑی ہوئی ہے میں ان کو دیکھ کر ہی پکڑ لوں حالانکہ وہ کتنے طاقتور ترین ملک کے حکمران ہیں.

اس پر پاکستانیوں‌ باتیں بھی کیں ، جو بہت اچھی باتیں بھی ہیں . جیسے کہ روسی دنیا کا مانا ہوا ملک ہے اور کسی دور میں سپر پاور رہا . اب بھی اس کا اثرو رسوخ سب سے بڑھ کر ہے اور ان ممالک میں ہے جوکہ دنیا کے اندر اپنا اثر رسوخ رکھتے ہیں. ان کے وزیر خارجہ تو اپنی چھتری خو د پکڑیں جبکہ ہمارے وزیرخارجہ جو کہ ایک ترقی پزیر ممالک میں سے ہے جس کی ترقی میں یہ پروٹوکول اور تکلفانہ اور شاہانہ آؤ بھگت حائل ہے .

قارئین نے سوشل میڈیا اور دیگر جگہوں پر وزیر خارجہ کو کافی تنقیدی کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں پروٹو کول کی بھوک اور لالچ نے ہم پر ایسے حکمران مسلط کیے رکھے ہیں‌. جو صرف اپنی ہی سوچتے ہیں اور ملک کو آگے لے کر نہیں چلے .

اسی طرح کہا گیا کہ روس کا وزیر خارجہ دوسرے ملک جا کر بھی اپنی چھتری خود پکڑ سکتا ہےلیکن کپتان کے نئے پاکستان میں جہاں پروٹوکول جیسی لعنت ختم کرنے کیلئے اگلے نے 22 سال جدوجہد کی وہاں وزیر خارجہ کی ہلکی رم جھم میں چھتری پکڑنے کیلئے بھی ایک ملازم موجود ہے
اخے تبدیلی آئی رہی اے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.