روس نے مغربی کنارے کو اسرائیل کی طرف سے اپنا حصہ بنانے پر تشویش کا اظہار کر دیا

روس نے مغربی کنارے کو اپنا حصہ بنانے پر تشویش کا اظہار کر دیا

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیر عظم کی طرف سے مغربی کنارے میں وادی اردن کو اسرائیلی کا علاقہ شامل کرنے کےا علان کے بعد علاقے میں کافی کشیدگی پائی جاتی ہے .
اس سلسلے میں روسی وزارت خارجہ نے اسرائیلی منصوبے تشویش کا اظہار کیا ہے . اور اس کو خطے کے لیے تناؤ اور خطرے کا باعث ہونا قرار دیا ہے .روس کا موقف ہے کہ اس قدام سے اسرائیل اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے مابین امن منصوبے کی امیدوں کو نقصان پہنچنے کا ندیشہ ہے.روسی حکومت کا کہنا تھا کہ یک طرفہ اقدامات سے دو ریاستی حل کی کوششوں کو بری طرح نقصان پہنچ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے وادی اردن کو 17 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد اسرائیل میں ضم کردیں گے۔

نیتن یاہو نے ٹیلیویژن خطاب میں کہا ، “ایک ہی جگہ ہے جہاں ہم انتخابات کے بعد ہی اسرائیلی خودمختاری کا اطلاق کرسکتے ہیں۔”

صہیونی ظلم جاری غزہ پر اسرائیل کے 15 فضائی حملے


روسی حکومت کا کہنا تھا کہ یک طرفہ اقدامات سے دو ریاستی حل کی مساعی کو بری طرح نقصان پہنچ سکتا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں وہ انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں مقبوضہ علاقے مغربی کنارے غور اردن کو اسرائیل کا حصہ بنائیں گے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.