fbpx

روس آج بھی فلسطینیوں کوان کا حق واپس کرنے کا مطالبہ کرتاہے:پوتن

سوچی :روس آج بھی فلسطینیوں کوان کا حق واپس کرنے کا مطالبہ کرتاہے،اطلاعات کے مطابق روسی صدر نے ایک بار پھرمسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی خواہش کے مطابق حل کرنے پرزور دیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے روس کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور فلسطینی صدر محمود عباس نے روس کے شہر سوچی میں ملاقات کی۔پوتن نے عباس سے ملاقات کے آغاز میں ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی عوام دنیا کے حالات سے واقف ہیں جن میں وہ رہتے ہیں،

س موقع پر روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ بیرونی ممالک کے دباؤ اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے علاوہ نئی قسم کی کورونا وائرس (کوویڈ 19) کی وبا نے بھی ان حالات کو متاثر کیا۔”روس فلسطین کی کوویڈ 19 میں مدد کر رہا ہے۔”

روسی صدر نے اس موقع پر یہ بتاتے ہوئے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے روس کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پوتن نے کہا،”مسئلہ فلسطین کو دو آزاد ریاستوں کی بنیاد پر ایک منصفانہ بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے جس میں خطے میں رہنے والے تمام لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق۔ ہم اس مقصد کے لیے کام کریں گے، چاہے یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔‘‘

فلسطینی صدرنے روس کی دعوت پر پوتن کا شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے کہا کہ”ہم ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ آپ کے رویے کی تعریف کرتے ہیں۔‘‘

دوسری طرف درجنوں یہودی آباد کاروں نے کل سوموارکو اسرائیلی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد قصیٰ میں گھس کر مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔

فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ درجنوں یہودی آباد کاروں، اسرائیلی طلبا اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت درجنوں انتہا پسندوں نے  قبلہ اول میں گھس کراشتعال انگیز چکر لگائے۔

یہودی آباد کار مراکشی دروازے کے راستے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔ اس موقعے پر انتہا پسند یہودی شرپسندوں کو مزعومہ ہیکل سلیمانی کے بارے میں مذہبی بریفنگ بھی دی گئی۔

خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتہ کے کے دن کے علاوہ ہفتے کے باقی ایام میں یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرنے والے اشتعال انگیز اقدامات اور حرکات کرتے ہیں۔

یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول پر دھاووں کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے جب کہ فلسطینیوں کو قبلہ اول میں نماز کی ادائی سے روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سمیت طرح طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔