fbpx

روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

کیف:یوکرین اور اتحادی اس بات پر خائف ہیں کہ ان کا مقابلہ افغآن مجاہدین سے ہورہا ہے اور یوکرین میں روس کی فتوحات کے پیچھے روس کے لیے لڑنے والے افغان مجاہدین ہیں جوماضی میں روس کے خلاف لڑتے رہے لیکن یہ افغان روس کے بہت زیادہ قریبی اتحادی ہیں ،
طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے سے قبل افغان فوج کے سابق جرنیلوں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سابق افغان فوجیوں کو بھرتئ کرکے انہیں یوکرین کے خلاف جنگ میں جھونک رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’’وائس آف امریکا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد امریکا سے تربیت حاصل کرنے والے سابق افغان فوجی ایران اور دیگر پڑوسی ملک چلے گئے تھے۔ اعلیٰ ترین عکسری تربیت کے حامل یہ سابق فوجی اب روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔

روس کی جانب سے ان سابق فوجیوں کو ڈیڑھ ہزار امریکی ڈالر ماہانہ کے علاوہ محفوظ پناہ گاہوں کی پیش کش بھی کی گئی ہے، تاکہ وہ اور ان کے گھر والے افغانستان نہ جاسکیں۔

سابق افغان حکومت میں فوج کے جنرل عبدالرؤف ارغندیوال نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کو ویگنر گروپ نامی ایک روسی گروپ بھرتی کررہا ہے۔ یہ سابق افغان فوجی روس کی جنگ لڑنا نہیں چاہت، لیکن ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔

طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے افغان فوج کے آخری سربراہ جنرل ہیبت اللہ علی زئی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کو سابق افغان فوجیوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار کی معاونت بھی حاصل ہے جو کہ فوجیوں سے ان کی اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے۔