fbpx

راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات نے راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی ہے۔

ممکنہ بارشوں کے پیش نظر کمشنر راولپنڈی نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناخوشگوار صورتحال میں چھوٹی بڑی مشینری کی دستیابی فوری یقینی بنائی جائے۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واسا سمیت ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں کو شہر کے نشیبی علاقوں میں متحرک رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، عملہ کو گلیوں اور سڑکوں سے پانی کی نکاسی کو جلد از جلد نکالنے کے احکامات جاری کیےگئے ہیں۔

جبکہ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں جبکہ بچوں کو ندی نالوں خصوصاً نالہ لئی کے قریب ہرگز مت جانے دیں۔

دوسری جانب بلوچستان میں بارش برسانے والا ایک اور سسٹم داخل ہوگیا جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سٹرکیں اور پل ٹوٹنے کے سبب صوبے کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
ضلع چمن میں مسلسل بارشوں کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی سے سڑکیں بند ہیں جبکہ شہر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں میں رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کے باعث سپینہ تیزہ اور غوژئی کے دیہات کا چمن سے رابطہ منقطع ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مضبوط سسٹم جنوب وسطی اور مغربی بلوچستان تک پھیل رہا ہے، جس سے نواحی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں بارش و سیلاب سے مزید 4 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر کچے مکانات گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحصیل کاہان کا زمینی راستہ گزشتہ 18 دنوں سے منقطع ہے جس کے باعث مکین محصور ہو کر رہ گئے۔ ادھر قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور گلستان میں بارشوں کے باعث سڑکیں آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہیں جبکہ توبہ اچکزئی میں برج متکزئی ڈیم اوور فلو ہونے کے باعث سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان ویسٹ زون موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی سفر پر روانہ ہونے سے پہلے 130 پر کال کرکے سڑک کی صورتحال معلوم کریں۔ واضح رہے کہ شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کا سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ساتھ زمینی رابطہ معطل ہو چکا ہے۔