fbpx

سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

سعادت حسن منٹو کے بارے میں کچھ کہنا یا لکھنا میرے
لئے بہت مشکل ہے ۔یہ تو منٹو سے محبت اور عقیدت کا تقاضا ہے کہ اس کے اظہار میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہاہوں ۔
سعادت حسن اور منٹو دو الگ اورعلیحدہ قسم کی شخصیات ہیں اسے حسن اتفاق کہیے کہ خالق نے منٹو کو تخلیق کرتے وقت سعادت حسن کو بھی پیدا کر دیا۔ منٹو چونکہ ایک بہت غیر معمولی قسم کا کردار تھا اور اس کو سنبھالنے اس کا بوجھ اٹھانے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بھی بہت ہی منفرد قسم کا فرد درکار تھا چنانچہ یہ خدمت سعادت حسن کے مقدر میں لکھ دی گئی۔
سعادت حسن متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر کے کوچہ وکیلاں میں پیدا ہوا۔ اس کے والد پیشے کے اعتبار سے جج اور ذات کے حوالے سے کشمیری تھے۔ غلام حسن منٹو نے دوشادیاں کی تھیں۔ دوسری شادی ایک افغان خاتون سردار بیگم سے ہوئی اور اسی خاتون نے سعادت حسن کو جنم دیا۔ اس کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد ہی غلام حسن منٹو نے ملازمت چھوڑ دی جس سے گھر کی کمزور مالی حالت پر ایک بڑے کنبے کا گزارہ کرنا کافی مشکل ہو گیا۔ اسی مشکل کے باعث سعادت حسن جس کے کندھوں پر منٹو بھی سوار تھا اسے مناسب توجہ نہ مل سکی جس کا وہ حقدار تھا۔ چنانچہ اپنے سوتیلے بھائیوں کی نسبت تعلیمی میدان میں وہ بہت پیچھے رہ گیا اور بچپن سے ہی امرتسر کے آوارہ مزاج لوگ اور پوشیدہ و پیچیدہ گلی کوچے سعادت حسن کے ہم سفر بن گئے۔ میٹرک کے امتحان میں متعدد بار ناکام ہونے کے بعد بڑی مشکل سے تھرڈ ڈویثرن میں پاس ہوا، اس کے بعد امرتسر کے ہی ایک کالج ’’ہندوسبھا‘‘میں داخلہ لیا، کچھ عرصہ فیض احمد فیض کے سامنے زانو تہہ کئے مگر جلد ہی طبیعت لکھائی پڑھائی سے اچاٹ ہو گئی اور عاشق علی فوٹو گرافر اور فضلو کمہار کی دکانیں اس کے لئے عظیم مکتب ٹھہریں۔ یہیں سے سعادت حسن کے ہمزاد منٹو نے جوا بازی اور شراب نوشی کے دھندے اختیار کئے۔ اسی اثناء ایک دوست کے کہنے پر علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں تقریباََ تین ماہ کے قیام کے بعد بیماری کے سبب کوچ کر گیا۔ اسی دوران منٹو کی مشہور اشتراکی ادیب باری علیگ سے ملاقات ہوئی جو اس وقت امرتسر سے شائع ہونے والے ایک اخبار ’’مساوات‘‘کے ایڈیٹر تھے، یاد رہے باری علیگ کا ’’’عسرت کدہ‘‘آج بھی پرانی انار کلی لاہور کے ایک مختصر سے مکان میں قائم ہے ۔
باری علیگ کی صحبت نے منٹو کو سنجیدگی سے ادب کی طرف راغب کیا باری علیگ کے ایماء پر منٹو نے مشہور روسی تصینف’’ایک اسیر کی سرگذشت اورویرا‘‘ کے تراجم کئے جو آج بھی اپنی ہیت اور روانی بیان میں بے مثل ہیں۔ امرتسر میں سعادت حسن کی مالی بدحالی جب حد سے بڑھ گئی اور اسے چھوٹے سے شہر میں اسے کوئی چارہ اور چارہ کار دکھائی نہ دیا تو وہ دہلی چلا آیا، جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو کے لئے پروگرام لکھا کرتا تھا۔یہیں پر اس نے ریڈیو کے لئے ڈرامے بھی لکھنا شروع کر دئیے۔ منٹو دہلی سے بھی جلد ہی اکتا گیا اور اگلی منزل سر کرنے کے لئے بمئبی کو ٹھکانہ بنا لیا۔ بمئبی منٹو کی حیات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے اسی شہر میں رہتے ہوئے منٹو کو فلمی زندگی کے فراڈ سمجھنے کا موقع ملا۔ معروف ادیب، محقق اور نقاد اینس ناگی لکھتے ہیں کہ ممبئی میں منٹو کے شب و رزو مختلف فلم کمپنیوں میں بسر ہونے لگے، ممبئی میں قیام کے دوران منٹو کی ادبی شہرت مسلم ہو چکی تھی۔
انیس ناگی لکھتے ہیں قیام پاکستان کے بعد منٹو کی زندگی ایک نئی کشمکش سے دوچار تھی، اس نے جہاں سے زندگی شروع کی تھی وہ اسی مقام پر کھڑا تھا۔جب وہ ممبئی گیا تو نوجوان تھا، نادار تھا، جب وہ پاکستان آیا تو مشہور تھا ،ادھیڑ عمر شروع ہونے والی تھی، وہ نادار تھا۔چند ہی برسوں میں اس کی صحت شراب اور غربت کی نذر ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بعد منٹو نے امروز، وفاق اور احسان میں مضامین لکھنے شروع کئے۔اس کی پندرہ کتابیں شائع ہوئیں۔ فحاشی کے الزام میں اس پر تین مقدمات بھی دائر ہوئے۔ منٹو کی مالی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی صفیہ منٹو کی بیوی اس کے عزیز واقارب منٹو کے گھر، اور اس کی تین بچیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ منٹو نے ’’ کفن‘‘ میں اپنی صور تحال کے بارے فریاد کی لیکن کوئی ادبی بورڈ یا ثقافتی ادارہ حرکت میں نہ آیا ،جسم کا زوال ،فن کا زوال،مالی زوال منٹو نرغے میں تھا۔ اس کا جواز حیات ختم ہو چکا تھا۔اس کے لئے ایک ہی راستہ تھا چنانچہ اس نے وہی راستہ اختیار کیا۔ منٹو موت کے وقت بھی خوف وہراس سے مغلوب نہیں تھا، نہ وہ اپنی مغفرت کا طلبگار تھا، اس نے نہ کوئی وصیت کی تھی نہ ہی اپنے پسماندگان کے لئے کسی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ جو شخص زندگی بھر بیمار رہا ہو، تنگ دستی کا شکار ہو۔ جسے اپنے ہنر کی داد نہ ملی ہو۔ جو ہمیشہ معتوب رہا ہو اور جس نے امید کے بغیر زندگی بسر کی ہو۔ اس کے لئے موت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ منٹو کے لئے زندگی کو اپنی منطق کے مطابق بسر کرنا موت سے زیادہ تکلیف وہ عمل تھا،کیونکہ زندہ رہنے کے لئے اسے ایک پورے نظام سے متصادم ہونا تھا منٹو کی زندگی کا آغاز بھی بدترین حالات میں ہوا اس کا انجام بھی بدترین حالات میں ہوا۔ اس نے امر تسر کے کوچہ وکیلاں سے لکشمی میشن لاہور تک پہنچتے پہنچتے انسان کی پوری نفسیات کا سفر کیا، وہ اپنے لئے خود موضوع بھی تھا اور معروض بھی۔
منٹو کے بارے دنیا میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بہت ساری یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی سطح کے مقالمے لکھے جا چکے ہیں اور مزید تحقیق جاری ہے۔چنانچہ میں منٹو کے فن اس کی سوچ، اس کے طرز تحریر ، اسلوب یا افسانوی سے متعلق کچھ لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، میرے نزدیک تو وہ اُردو افسانوی ادب میں کسی بھی طور سے استاد سے کم نہیں ہے، وہ پہلا قلمکار ہے جس نے اپنے قلم سے جدید اُردو افسانے کے لئے زمین کھودی۔ اسے ہموار کیا، اسے نرم کیا، اس میں جدید افسانے کا بیج بویا اور پھر عمر بھر اس بیج سے نکلنے والی کونپلوں کو درخت بنتا دیکھتا رہا۔
افسوس کہ وہ اس کی چھاؤں میں بیٹھ نہ سکا۔

@The_Pindiwal

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!