fbpx

پی ٹی آئی کے سبطین خان سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سبطین خان پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سیف الملوک کھوکھر کو شکست دیکر پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کے انتخاب کیلئے قرارداد منظور کی گئی تھی، ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے بھی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

میانوالی سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سبطین خان کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) پر مشتمل حکمران اتحاد نے اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا جو سابق سپیکر پرویز الٰہی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے باعث خالی ہوا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سیف الملوک کھوکھر کو اپنا مشترکہ امیدوار بنایا تھا۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کے انتخاب کیلئے قرارداد منظور کی گئی تھی، ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے بھی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

قرارداد پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی راجہ بشارت نے پیش کی تھی، پی ٹی آئی اور ن لیگ کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرا دئیے گئے ہیں۔

میانوالی سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی سبطین خان کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) پر مشتمل حکمران اتحاد نے اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا جو سابق سپیکر پرویز الٰہی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے باعث خالی ہوا تھا۔

اجلاس میں رانا مشہود کی پنجاب اسمبلی کے سٹاف کے ساتھ تلخی ہوگئی، لیگی ایم پی اے نے اسمبلی سٹاف سے بیلٹ کی کاپی چھین لی، پینل آف چیئر کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ لیگی ایم پی اے سے بیلٹ کی کاپی لی جائے، پر امن پولنگ کو خراب نہ کیا جائے۔

پینل آف چیئر نے کہا کہ لیگی ایم پی اے چار بیلٹ پیپر پھاڑ کر لے گئے، ایم پی اے رخسانہ چار بیلٹ پیپر لے گئی ہیں۔

سیف الملوک کھوکھر نے پرچی جاری کرنے والے ایجنٹ کا رجسٹر چھین کر پھینک دیا، پینل آف چیئرمین نے سکیورٹی ایوان کے اندر بلالی۔مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رانا مشہود اور رخسانہ کوکب نے پریزائیڈنگ آفیسر پر دھاوا بول دیا، رانا مشہود نے بیلٹ پیپر والی کاپی کھینچ لی۔

سبطین خان نے پینل آف چیئر کو تحریری شکایت درج کرادی اور کہا کہ چار بیلٹ پیپر اسمبلی سٹاف سے لیگی ایم پی اے نے چھین لئے ریکور کروائے جائیں جس پر پینل آف چیئر نے ریکوری کی رولنگ دے دی۔

ایک موقع پر پنجاب اسمبلی میں اس وقت پولنگ رک گئی جب اسپیکر کے لیے ہونے والی پولنگ میں اس وقت بد نظمی دیکھنے میں آئی جب دوست مزاری ووٹ ڈالنے کےلیے اٹھے،

پنجاب اسمبلی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری جب ووٹ ڈالنے کے لیے اٹھے تو حکومتی بینچوں سے لوٹا لوٹا کے نعرے لگنے لگے ، جس پراسمبلی ہال کےاندر بدنظمی پیدا ہوگئی تو پینل آف چیئرمین وسیم خان بادوزئی نے عارضی طور پر پولنگ روکنے کا حکم دے دیا

پنجاب اسمبلی آج نیا اسپیکرمنتخب کرے گی جبکہ ڈپٹی اسپیکردوست محمد مزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پربھی ووٹنگ ہوگی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے، اور پہلا ووٹ پی پی 254 سےافتخار گیلانی نے کاسٹ کیا۔

پولنگ بوتھ نمبرایک میں 1سے185تک اراکین اسمبلی ووٹ ڈالےجائیں گے، جب کہ پولنگ بوتھ نمبر 2 میں 186 سے 371 تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔پی ٹی آئی کے سبطین خان اور ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھرآمنے سامنے ہیں اور دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کررکھا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے لیے ن لیگ نے سیف الملوک کھوکھر کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ سیف الملوک کھوکھر کو پی ڈی ایم میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

آج پنجاب اسمبلی کا اجلاس حسب معمول دو گھنٹے کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین وسیم خان بادوزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔راجہ بشارت نے اسپیکر کے انتخاب اور ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروا دی ہے۔

پنجاب اسمبلی نے کثرت رائے سے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک اعتماد کی قرارداد منظور کرلی ہے اور اب کل 4 بجے ہی ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی ہوگی۔ انتخاب خفیہ رائے شماری سے کیا جائے گا۔

 

 

پنجاب اسمبلی کے نئے اسپیکر کا انتخاب آج ہورہا ہے، تاہم اسمبلی کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے الیکشن کرانے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

اس حوالے سے چیف وہپ خلیل طاہر سندھو نے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور پینل آف چیئرمین کو خط لکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات کے عملے کے حوالے خدشات اور تحفظات ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آج کا انتخاب آئین اور الیکشن رولز کے تحت کرایا جائے، عملے کی غیر جانبداری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔خط کے متن میں ہے کہ کسی بھی غلط کام کے نتیجے میں صرف جمہوریت کمزور ہوگی۔ قانون کے مطابق سختی سے عمل نہ کیا گیا تو دیگر فورم سے رجوع کیا جائے گا۔