fbpx

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی جان بچے گی نہیں ، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کا سرکس ابھی تک چل رہا ہے ،نیب کا چیئرمین تو گھر چلا گیا، اس سے کوئی پوچھ گچھ کرے تو مختلف بہانے کر کے جان بچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جان بچے گی نہیں ۔

جب نیب قانون پاس ہورہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ

احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو ظلم ان لوگوں نے کیے ہیں ان کو جواب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے عدالت سے پوچھا کہ یہ بتائیں ہمارا جرم کیاہے، یہ پراسیکیوشن بھی بتانے سے قاصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر دوسرا لفظ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔شاہد قاخان عباسی نے کہا کہ میں نے عدالت سے پوچھا کہ کیا کسی جرم کے بغیر منی لانڈرنگ ہوسکتی ہے۔ جس پیسے پر ٹیکس دیا ہو کیااس پر منی لانڈرنگ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکا جواب نیب کے پاس نہیں ہے۔

 

پرویز الٰہی کی وفاقی وزرا اور حمزہ شہباز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

 

انہوں نے کہا کہ اب سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی منی لانڈرنگ کاکیا ہوگا، وہ ثبوت بھی ابھی سامنے آئیں گے ،جو کرپشن اس نے کی ہے، جو منی لانڈرنگ اس نے کی ہے، جواس کے اثاثے ہیں،میرا چیلنج ہے کہ وہ اپنے اثاثے عوام کے سامنے رکھیں۔

قائم مقام چیئرمین نیب نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اختیارات عدالت میں چیلنج کردیے

 

انہوں نے کہا کہ چار سال تک احتساب کے جھوٹے دعوے کرتے رہے، اگر آپ واقعی احتساب کے داعی ہیں تو اپنے اثاثے اس ملک کے عوام کے سامنے رکھیں ۔