سابق آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے تبادلے کیخلاف درخواستوں پر سماعت

0
34

سابق آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے تبادلے کیخلاف درخواستوں پر سماعت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور کے تبادلے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

عدالت نے درخواستوں پر سماعت 31 مارچ تک ملتوی کر دی ۔عدالت کے روبرو آئی جی پنجاب کی طرف سے جواب داخل کروا دیا گیا ۔عدالت کے روبرو درخواستگزاران نے جواب داخل کروانے کے لیے مہلت طلب کی ۔انعام غنی نے تحریری جواب میں کہا کہ میری تقرری قانون کے مطابق ہوئی میری تقرری کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مبینہ ملزم،سابق آئی جی پنجاب کو بلٹ پروف گاڑی نہ دی تو …عدالت کا بڑا حکم

عدالت نے موجودہ آئی جی پنجاب اور سابق آئی جی شعیب دستگیر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیاتھا،عدالت نے موجودہ سی سی پی او ۔سابق سی سی پی او ذوالفقار حمید اور عمر شیخ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا، گزشتہ سماعت پر عدالت نے قرار دیا تھا کہ بادی النظر میں شعیب دستگیر کو ہٹانا اور انعام غنی کو انکی جگہ پر تعنیات کرنا قانون کی خلاف ہے گزشتہ سماعت پر سرکاری وکیل عبدالعزیز اعوان نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا تھا عدالتی معاون اویس خالد کا موقف تھا کہ ایسے کیسوں میں آئین پاکستان کے 240 اور 242کے تحت عدالت کا دیکھنا ضروری ہے کہ ایسی تقرریاں قانون کے تحت ہوئیں ۔عدالتی معاون نے عدالت کو بتایا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد پولیس آرڈر میں ترامیم کر دی گئی ۔عدالتی معاون وقار اے شیخ نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ آئی جی پنجاب کی تقرری سیفٹی کمیشن کرے گا ۔ عدالتی معاون اویس خالد نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ آئی جی کی تقرری کے لیے اریٹکل 11 اور 12 کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ عدالتی معاون اویس خالد نے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت پنجاب ایسی تقرریاں وفاقی حکومت کی مشاورت سے کرے گی۔ عدالتی معاون اویس خالد نے عدالت کو بتایا تھا کہ قانون کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی وقت کسی بھی پولیس افسر کی خدمات واپس لے سکتی ہے ۔ عدالتی معاون اویس خالد نے اگاہ کیا تھا کہ قانون آئی جی پنجاب کی تقرری کے لیے ساکت ہے۔ ۔

Leave a reply