fbpx

سابق گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو انتقال کرگئے

سابق گورنراوروزیراعلیٰ سندھ ممتازبھٹو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

پاکستان کے معمر ساستدان سابق گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ ممتازبھٹو انتقال کرگئے، وہ طویل عرصے سے علیل تھے اور کراچی میں اپنی رہائش گاہ میں ہی مقیم تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

ان کی پارٹی کے ترجمان نے ممتاز بھٹو کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ممتاز بھٹو کی لاش شام کو ان کے آبائی شہر لاڑکانہ پہنچائی جائے گی، جہاں نے ان کی نمازجنازہ اور تدفین ہوگی۔

ممتازبھٹو سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے کزن تھے، اور وہ ذوالفقارعلی بھٹو کی کابینہ میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں، انہیں پاکستان پیپلزپارٹی کا بانی رہنما بھی کہا جاتا ہے۔

وہ 1 مئی 1972 سے 20 دسمبر 1972 تک صوبہ سندھ کے تیرہوین وزیر اعلیٰ رہے، اس وقت ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا، تاہم بعد میں انہوں نے پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے سندھ نیشنل فرنٹ کی بنیاد رکھی، اور 2017 میں اپنی جماعت کو تحریک انصاف میں ضم کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے ممتاز بھٹو کی وفات پر اظہار غم کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز علی بھٹو کی وفات کا سن کر افسوس ہوا، میں ان کے لیے دعائے مغفرت اور اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ممتاز بھٹو کی وفات پر سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کی ہے، مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور ا کے بیٹے مونس الٰہی نے بزرگ سیاستدان ممتاز بھٹو کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مرحوم کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔