fbpx

صابرشاکرنے اے آروائی سے 17 سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کردیا

اسلام آباد:صابرشاکرنے اے آروائی سے 17 سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق اے آر وائی کے سینئر صحافی صابر شاکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پراپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہےکہ وہ اے آر وائی سے اپنی سترہ سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں

صابرشاکر نے کہا ہے کہ انہوں نے اے آر وائی کے مالک سلمان کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے اورکہا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ اے آر وائی سدا خوش رہے ، سدا آباد رہے ، اے آر وائی کی ٹیم کے لیے دعا گو ہوں کہ وہ ترقی کریں ، ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایمان ہے کہ ہرنفع نقصان کا مالک اللہ ہے اوربادشاہی صرف اللہ کی ہے

 

صابر شاکر نے اپنے پغام میں پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ میری بہادر افواج کو سلام کہتا ہوں‌ اور یہ دعا کرتا ہوں کہ یہ ملک سدا پھلا پھولا رہے

یاد رہے کہ چند دن پہلے صابر شاکر کے خلاف سندھ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ صابر شاکر کے خلاف محمود حسن نامی شہری کی مدعیت میں دفعہ 153، 505 اور 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سندھ کے ضلع میر پور خاص کے مہران پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صابر شاکر نے اداروں کے خلاف بیان دیے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اے آر وائی کے اینکر ارشد شریف کے خلاف حیدر آباد میں ملکی اداروں کے خلاف بیان دینے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دریں اثنا پنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی یوجے ) کے صدرابراہیم لکی ،جنرل سیکرٹری خاوربیگ و ایگزیکٹوکونسل نے اے آروائی کے ا ینکرپرسن صابرشاکرکیخلاف مقدمہ درج کرنے پرشدید برہمی کا اظہارکیاہے اور اس کوآزادی اظہارکیخلاف سنگین کاروائی قراردیاہے،اورسندھ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ فوری طورپرمقدمہ خارج کیا جائے ۔اپنے جاری کردہ ایک بیان میں ان کاکہناتھاکہ حکومت کے آنے کے فوری بعدمتعدد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں ،

اس سے قبل اینکرپرسن ارشدشریف کیخلاف بھی مقدمہ درج کیاگیا جوآزادی اظہاررائے پرپابندی کے مترادف ہے،سابقہ حکومت کے دور میں سینئرصحافی محسن بیگ سمیت کئی صحافیوں کوڈاریادھمکایاگیا اورمقدمے درج کئے گئے جس کوکسی طورپرقبول نہیں کیاجاسکتا ۔ان کامزیدکہناتھاکہ مسلم لیگ ن کا حکومت میں آنے کے بعد میڈیاکی آزادی کیلئے جودعوے تھے وہ ایسی مسلسل کاروائیوں کے بعددھرے کے دھرے رہ گئے،لہذا حکومت فوری طورپرایسے اقداما ت کرے جس سے بلاخوف وخطر آزادانہ ماحول میں اپنی پیشہ وارانہ فراءض انجا م دے سکیں۔۔