اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

0
53

بہت سے لوگوں کو ایک غلط فہمی ہے کہ امریکہ نے چونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی امداد میں کمی کردی ہے لہذا امریکہ نے از خود سپر پاور ہونے سے دستبرداری کر لی ہے۔ حالانکہ اصل صورتحال مختلف ہے امریکہ نے روس کا خطرہ کم ہونے پر امداد بند کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی عسکری بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ امریکہ آج بھی دنیا کا بڑا پلیئر ہے۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ کو اب سمندروں پر اجارہ داری بر قرار رکھنے کے مسائل در پیش ہیں۔

اب امریکہ نے خاص حکمت عملی کے تحت جنوبی ایشیا، سنٹرل ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے اپنی توجہ ہٹا کر بحیرہ ہند ، انڈین پیسفک اور ساوتھ چائنہ سی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ۔ اس وقت امریکہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ چین ہے ۔ آج کا امریکہ چین کی ابھرتی طاقت اور دنیا میں پھیلتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان نظر آتا ہے۔ چین کے خلاف چار ملکوں کی سوچ اور انڈرسٹینڈنگ چند سال سے واضح ہے۔ ان چار ممالک میں امریکہ کے علاوہ جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ پھر ابھی دو روز قبل کی خبر ہے جس میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے چین کو 21ویں صدی میں امریکا کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی و سیاسی خطرہ قرار دیتے ہوئے چین سے متعلق معاملات دیکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کا خصوصی چائنا مشن سینٹر قائم کردیا ہے۔ ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز نے کہا ہے کہ چائنا مشن سینٹر کا مقصد چین کی جانب سے درپیش عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ آسان الفاظ میں امریکہ نے چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں اب تک سات اقدامات اٹھائے ہیں ۔
New China Monitor Centre in CIA
Five Eyes Partnership
Pacific Deterrence Initiative
Quad
Integrated Defence
AUKUS
Tech Grouping

اب یہ تمام معاہدے اور گروپنگ ایسی ہے ۔ جس کے بعد یہ تواتر کے ساتھ خبریں چل رہی ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کسی وقت بھی چھڑ سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسے دھیمے لہجے میں سرد جنگ کہا جاتا تھا مگر اب اسے تیسری عالمی جنگ کہا جا رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ صرف چند برسوں میں ہی چین ترقی کی عالمی دوڑ اور عالمی سپر پاور کا درجہ لینے کے کھیل میں بہت آگے نکل گیا ہے ۔ اس کی معیشت تمام اندازوں سے زیادہ ترقی کر رہی ہے۔ اس کو کرونا سے لے کر کوئی بھی اتحاد اور ٹریڈ وار روک نہیں پا رہی ہے ۔ جو ذہن میں رکھنے کی چیز ہے وہ یہ ہے کہ آج جس سرد جنگ کا آغاز ہوتا نظر آ رہا ہے اس کی نوعیت جیواکنامک ہے۔ ٹیکنالوجی اس دوڑ کا اہم ستون ہے کہ موجودہ دور میں جو قوم ٹیکنالوجی میں آگے ہوگی وہی تیز اقتصادی ترقی کرسکے گی۔ ٹیکنالوجی کی جنگ کی ایک مثال چین کی (Huawei) کمپنی ہے جو ٹیکنالوجی میں خاصی آگے ہے۔ پھر امریکہ سمجھتا ہے جنوبی ایشیا کے معاملات کو سنبھالنے کیلئے اس کا نیا اتحادی انڈیا کافی ہے جس نے 2020 سے لیکر اب تک چین سے کئی بار مار کھائی ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی میڈیا نے ارونا چل پردیش میں چینی فوجیوں کو زیر حراست رکھنے کے دعوے کئے تھے جس پر چین نے بھارتی فوجی قیدیوں کی تصاویر جاری کر کے ان کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ پھر ایک ہفتے پہلے چینی فوج بڑے آرام سے اتراکھنڈ میں پانچ کلومیٹر تک اندر آئی ۔ پل تباہ کیا۔ اور واپس چلی گئی ۔ کسی بھارتی سورما میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ چینی فوج کا سامنا کرے ۔ دراصل چین بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس نے کواڈ گروپ میں شامل ہو کر اچھا نہیں کیا اور اسی لیے مستقبل میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت نے اس میں شامل ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس خطے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا بغل بچہ بن کر رہے گا ۔ اس بات کا چین بھارت کو مسلسل سبق سیکھا رہا ہے ۔

آپ دیکھیں ففتھ جنریشن وار ہو ، بیانیہ کی جنگ ہو ، پراپیگنڈہ ہو ، سرحدوں پر معاملات ہو ، عالمی پلیٹ فارمز پر ایجنڈہ ہو ۔ چین پر محاذ پر اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے ۔ امریکہ کی بد قسمتی یہ ہے کہ جنوبی ایشیا ء میں بھارت کے علاوہ اس کا عزت سے نام لینا والا کوئی ملک بچا نہیں ہے ۔ روس چین، سنٹرل ایشیاء کے ممالک ، پاکستان ، ایران ، ترکی سب امریکہ کے جارحانہ رویے سے نالاں ہیں۔ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کیلے کوئی تیار نہیں ہے۔ امریکہ بھی عالمی سطح پر بڑے منصوبے لانچ کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ پر اس کی دال نہیں گل رہی ہے ۔ اسی وجہ سے امریکہ میں چین کے لیے ایک سخت مخالفانہ ماحول ہے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی تک چین نے اپنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے ۔ الٹا امریکہ کے لیے پیغام دیا جا رہا ہے کہ چین کی جو پالیسیاں ہیں۔ وہ اپنی جگہ درست ہیں اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ان پالیسیوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ ۔ ساتھ ہی چین کا لب ولہجہ سخت ہو رہا ہے۔ سفارتی سطح پر چین کے ۔۔۔ وولف واریئرز ۔۔۔ جارحانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جس میں وہ مصلحت آمیز رویے کے بجائے تصادم کا لہجہ اختیار کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی تمام تر پریشر اور مغربی میڈیا کے پراپیگنڈہ کے باوجود چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا دیا ہے کہ تائیوان کو دوبارہ چین کا حصہ بنانے کا عمل ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ ہم یہ عمل پرامن طریقے سے کریں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ چین کے لوگ علیحدگی کے خلاف جدوجہد کی ایک عظیم داستان رکھتے ہیں۔ کسی کو بھی چینی عوام کے مضبوط عزم ، پختہ ارادے ،قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مضبوط صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے ۔ پر یہاں پر امریکی دوغلا کردار دیکھائی دیتا ہے ایک جانب اس نے تائیوان کو آگے لگا کر اب چین کے سامنے مرنے کے لیے اکیلے چھوڑدیا ہے ۔ یہ ہی ڈر بھارت اور جاپان کو بھی ہے کہ امریکہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کیا جاپان ، آسٹریلیا اور انڈیا اپنے کندھے آسانی سے امریکہ کو پیش کردیں گے۔ انڈین لیڈرشپ خوب جانتی ہے کہ امریکہ انہیں چین سے لڑا کر ایک طرف ہو جائے گا اور نتائج انڈیا بھگتے گا۔ ۔ پھر انڈین یہ بھی سوچتے ہیں کہ آخر ایٹمی آبدوزیں آسٹریلیا کوکیوں مل رہی ہیں۔ اس پر بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جب چاروں ممالک میں چین مخالف ایجنڈا پر اتفاق کسی حد تک موجود تھا تو پھر تین ممالک (امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا) کا نیا گروپ کیوں بنایا گیا؟

انڈیا کی سابق سیکرٹری خارجہnirpama rao نے اس نئے اتحاد کو چار رکنی اتحاد کی پیٹھ میں سٹریٹیجک چُھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس لیے جو حالات دیکھائی دے رہے ہیں ۔ انڈیا امریکہ کی خاطر چین سے نہیں لڑے گا بلکہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلے گا۔ امریکہ سے وہ پہلے ہی کافی فائدے اٹھا چکا ہے۔ ۔ اسی لیے اس دفعہ سرد جنگ میں وہ تیزی نظر نہیں آئی جو گزشتہ صدی کی کولڈوار میں تھی۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلی سرد جنگ میں یورپی ممالک پوری یکسوئی سے امریکہ کے ساتھ تھے۔ وہ نیٹو میں بھی شامل ہوئے جبکہ اکیسویں صدی کی کولڈوار کے ساتھی بشمول انڈیا اور جاپان دل و جان سے امریکہ کے ساتھ نہیں لگتے۔ ان کے چین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات ہیں ۔ پھر صدر شی بھی دنیا کے سٹیج پر چین کا جارحانہ امیج دکھانے کے حامی رہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد سے انہوں ان اقدامات پر زور دیا ہے کہ چین زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرے اور اپنے اندر فائٹنگ سپرٹ پیدا کرے۔ ہانگ کانگ ، تائیوان ، لداخ اس کی مثالیں ہیں ۔ چین کی اس پالیسی سے اس چیز کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنی سفارتی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی ضروری نہیں سمجھتا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہانگ کانگ اور تائیوان پر کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس طرح وہ ہمالیہ سے لے کر ساوتھ چائنہ سی تک پائے جانے والے علاقائی تنازعات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت چین خاموشی سے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی طاقت اور برتری کا خوف لوگوں کے ذہنوں سے چھو منتر ہو رہا ہے ۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی۔ دنیامیں برتری اور خدمت کا تاج مشرقی قومیں پہنیں گی۔

Leave a reply