fbpx

صدر مملکت عارف علوی کو غیر ملکی کے نامزد سفراء نے سفارتی اسناد پیش کیں

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو جرمنی، سپین، بلجیئم ، لیبیا، کینیا اور ایتھوپیا کے نامزد سفیروں نے ایوان صدر میں منعقد ایک تقریب میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت سے پاکستان میں جرمنی کے سفیر الفریڈ گریناس، سپین کے سفیر جوز انتونیا دی اورے پرل، بیلجیئم کے سفیر چارلس ڈیگلون، لیبیا کے سفیر معمر زیدو عبدالمطلب، کینیا کے ہائی کمشنر میری نیمبورا کماؤ اور ایتھوپیا کے سفیر جمال بکر عبداللہ نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جرمنی کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، ہوا، شمسی توانائی اور ہائیڈل پاور پراجیکٹس میں مہارت رکھنے والی جرمن کمپنیاں ان شعبوں میں موجود مواقع اور مراعات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمن سرمایہ کار سی پیک کے تحت پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں، دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کے پیش نظر تجارت کی موجودہ سطح کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کم کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت سے پاکستان میں سپین کے نئے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور سپین کے مابین اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور سیاحت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، صدر مملکت نے جی ایس پی پلس سکیم پر پاکستان کیلئے سپین کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور سپین کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت سے بیلجیئم کے نامزد سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ تجارتی وفود کے تبادلوں، تجارتی میلوں میں شرکت اور مشترکہ منصوبوں سے تجارتی تعاون بڑھایا جا سکتا ہے، پاکستان اور بیلجیئم کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم کو 1.35 ارب ڈالر کی موجودہ سطح سے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، پورٹ ہینڈلنگ اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بامعنی تعاون کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں صدر مملکت عارف علوی سے پاکستان میں لیبیا کے نئے سفیر نے بھی ملاقات کی۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اور لیبیا کے مابین تجارتی تعلقات کو وسعت دینے، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ 11 سال کے وقفے کے بعد تعینات ہونے والے نئے سفیر برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔ صدر مملکت سے پاکستان میں کینیا کے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کینیا کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کینیا افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی اور دوسرا بڑا درآمدی شراکت دار ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے تجارت، معیشت، دفاع اور بارڈر مینجمنٹ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور ہم آہنگی کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔

صدر مملکت سے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے ایتھوپیا کی جانب سے اسلام آباد میں سفارتی مشن کھولنے کے فیصلے کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیصلے سے تعلقات میں بہتری آئے گی، دوستی اور تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہوا بازی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا۔ صدر مملکت نے کراچی اور عدیس ابابا کے مابین 2 ہفتہ وار براہ راست پروازوں کا بھی خیرمقدم کیا