fbpx

سادگی سے شادی زندگی میں آسانی.تحریر: شاہدہ بانو

شادی دو انسانوں کے درمیان ایک پیار محبت کا ایک ایسا رشتہ ہے جس کو جوڑنے کے لیے نکاح جیسا پیارا عمل رکھا گیا ہے
نکاح سنت انبیاء کرام ہے
سنت کے مطابق شادی کرنے سے زندگی میں برکت آتی ہے
نئے جوڑے نئے رشتے کے دل میں اطمنان اور پیار کا رشتہ بڑھتا ہے
آج کل کے دور میں ہم لوگوں نے شادی کو اٹھا مشکل کر دیا کہ عام انسان کی پہنچ سے تو کہیں دور نکل چکی ہے شادی
لڑکیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں
جب کہ اسلام میں صرف نکاح اور حسب استطاعت ولیمہ پے بس
نا جہیز کا تصور ہے
نا اور کوئی رسم ہے
صرف نکاح وہ بھی مسجد میں کریں تاکہ عام عوام تک نکاح کا پیغام پہنچ جائے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس نکاح میں سب سے زیادہ برکت ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو
إن اعظم النکاح برکة أیسرہ موٴنة
(مسند احمد رقم: ۲۴۵۲۵) 

شادی سادگی سے کی جائے جس جگہ رشتہ پسند آئے تو لڑکا یا لڑکی کا ولی اور سرپرست پیغامِ نکاح دیدے، جب منظور ہوجائے تو بلا کسی رسم ورواج کے کوئی دن مثلاًجمعہ کا روز مقرر کرلیا جائے، اس دن لڑکا اپنے والد اور ایک دو معزز افراد کے ساتھ لڑکی کے یہاں چلا جائے، وہاں کسی مسجد میں سب لوگ نماز ادا کریں، اور اس مسجد میں لڑکی کا ولی بھی لڑکی سے اجازت لے کر آجائے، بعد نماز تھوڑی دیر فریقین اور حاضرین مسجد میں بیٹھ جائیں ، پھر مسجد کا امام یا کوئی اہل فرد خطبہ پڑھ کر لڑکی کے ولی (یا وکیل) کی اجازت سے لڑکے کے سامنے ایجاب کرے، لڑکا قبول کرلے پھر مختصر دعا کرائے، بس نکاح ہوگیا، اس کے بعد لڑکی والے دلہن کو رخصت کرادیں، اگر اس موقع پر لڑکا اور اس کے ساتھ آنے والے دوچار افراد کو لڑکی والے کھانا کھلادیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ جب لڑکی رخصت ہوکر سسرال چلی آئے تو شبِ زفاف کے بعد لڑکا ولیمہ مسنون کردے، جس میں حسب حیثیت اعزہ واقارب نیز غرباء مساکین کو مدعو کرکے کھانا کھلادے۔

 آج کل شادی اور منگنی کے نام پر جو رسمیں کی جاتی ہیں، ان کا ترک ضروری ہے، نیز مروجہ بارات بھی واجب الترک ہے، شادی کی محفل میں تصویر کشی اور ویڈیو گرافی کی جو وباء پھیلی ہوئی ہے وہ تو قطعا ناجائز ہے، ان سے احتراز ضروری ہے۔

آئیں سب سے پہلے اپنے گھروں سے ان غیر شرعی رسومات کا خاتمہ کریں پھر عام عوام تک آواز پہنچائیں