سعودی شہزادے پرتنقید جرم،مدینہ منورہ کے امام کی جیل میں وفات

0
126

سعودی شہزادے پرتنقید جرم،مدینہ منورہ کے امام کی جیل میں وفات

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسجد نبوی، مدینہ منورہ کے امام ، شیخ العماری ،قید کے دوران، جیل میں وفات پا گئے ہیں

کچھ عرصہ پہلے ،شیخ العماری نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے سعودی شہزادہ سلمان پر اسرائیل سے تعلقات بڑھانے پر تنقید کی تھی۔ جس کے بعد انہیں ان کے گھر سے گرفتار کر کے جیل ڈال دیا گیا تھا۔

علیل ہونے کے باوجود، جیل حکام نے علاج معالجہ کہ سہولیات فراہم نہ کی اور وہ داعی اجل ہوئے۔

سعودی عرب میں آل سعود کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے علما، ائمہ مساجد و جمعہ کی گرفتاریوں اور برطرفی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سعودی عرب کے اخبار عکاظ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے آل سعود کی مخالفت کی پاداش میں الباختہ کے علاقے کے سات ائمہ مساجد و جمعہ کو ان کے عہدوں سے سبکدوش کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جبری طور پر ملازمتوں سے نکالے جانے والے علماء پر الزام ہے کہ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کی پیروی نہیں کی اورعالم عرب کی معروف سیاسی و مذہبی جماعت اخوان المسلمین کے خلاف خطبہ دینے سے متعلق وزارت اسلامی امور کی ہدایات پر عمل درآمد میں سستی کا مظاہرہ کیا تھا۔

قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

وزیر خارجہ کا سعودی عرب بارے بیان،شہباز شریف نے بڑا مطالبہ کر دیا

برف پگھلنے لگی، سعودی سفیر کی وزیر خارجہ سے ملاقات، سعودی اہم شخصیت کا دورہ پاکستان متوقع

سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

سعودی عرب کا بین الاقوامی مسافر پروازوں کا آپریشن معطل،پی آئی اے نے بھی اعلان کر دیا

سعودی عرب کا بڑا وفد کب آ رہا ہے پاکستان؟ وزیر خارجہ کا بڑا اعلان

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے سعودی سفیر کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

بڑی تبدیلی، سعودی عرب میں کس کو سفیر مقرر کر دیا گیا؟

پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتوں کے دوران بھی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں علماء، ائمہ مساجد و جمعہ کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا تھا ان پر الزام تھا کہ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کی پیروی نہیں کی اس لئے وہ اس منصب کے اہل نہیں رہے۔

سعودی وزارت اسلامی امور، دعوت اور ارشاد کے وزیر عبد اللطیف بن العزیز آل الشیخ نے العربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی تاہم انہوں نے دعوی کیا کہ وزارت اپنے ما تحت کسی ملازم یا امام کو ملازمت سے نکالنا نہیں چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں ان کے منصب کے تقاضوں سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں علماء، ائمہ مساجد و جمعہ کو ان کے عہدوں سے برطرف کرنے کے علاوہ سعودی عرب کے الشرقیہ صوبے کے شہر قطیف میں شیعہ مسلمانوں اور علماء کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران آل سعود کے عناصر نے قطیف میں کئی رہائشی مکانوں کو مسمار کر کے 34 افراد کو گرفتار کر لیا جن میں علماء بھی شامل ہیں۔

صوبہ الشرقیہ کے شیعہ علاقوں پر سعودی فوجی اکثر حملے کرتے رہتے ہیں۔ اس علاقے پر سعودی سیکورٹی اہلکاروں کے حملوں میں اب تک دسیوں شہری جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے، انسانی حقوق کے کارکنوں کی سرکوبی، آزادی اظہار رائے اور بلا جواز سزائے موت جیسے مسائل پر سعودی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ بعض انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔

Leave a reply