fbpx

سعید غنی کا پیر کو انکوائری اور گرفتاری کیلئے نیب دفتر جانےکا اعلان

.پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء اور وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے پیر کو انکوائری اور گرفتاری کیلئے نیب دفتر جانے کا اعلان کردیا، انہوں نے کہاکہ میں بغیر ضمانت نیب کراچی کے دفتر جاؤں گا، نیب مقدمہ درج کرے اور مجھے گرفتار کرے، چیئرمین نیب کی ایک ویڈیو حلیم عادل کے پاس ہے، ویڈیو کے بعد چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں مجھ پر الزام لگایا کہ میرے خلاف انکوائری چل رہے، میں پیر کوبغیر ضمانت نیب کراچی کے دفتر جاؤں گا، نیب مقدمہ درج کرے اور مجھے گرفتار کرے، میں ضمانت بھی نہیں کرواؤں گا، نیب میرے خلاف 90 روزہ ریمانڈ لے میں وہاں پر بھی کوئی درخواست نہیں کروں گا، انہوں نے چیئرمین نیب ویڈیو اسکینڈل کے بعد کہیں کے نہیں رہے، وہ بلیک میل ہورہے ہیں، حلیم عادل کے پاس بھی ان کی ایک ویڈیو ہے،حلیم عادل نے 264 ایکڑ زمین پرقبضہ کررکھا ہے، میں حلیم عادل کی گرفتار ی کا مطالبہ کررہا ہوں اور مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کیوں حلیم عادل کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالتے، مجھے لگتا ہے ایک ویڈیو حلیم عادل کے پاس بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گندم کا سب سے بڑا اسکینڈل ہوا، نیب اس گندم اسکینڈل پر کیوں خاموش ہی علی ظفر شوگر ملز کا وکیل رہا ہے، علی ظفر کو گندم اسکینڈل پر فیصلے کا کہا گیا ہے۔ سیکشن اکتیس نیب کے اپنے لوگوں پر لاگو ہوتا ہے ۔ میرے خلاف نیب کراچی میں کوئی تحقیقات ہو رہے ہیں پہلے ذکر نہیں کیا مگر اب نئی تحقیقات شروع کر دی ۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ماضی میں نہ انتقامی کارروائیاں کی نہ آئندہ کریگی۔ نیب کے لاڈلوں کے خلاف بات کرنے پر یہ کارروائیاں ہوتی ہیں، چیئرمین نیب خود مستعفی ہو جائے اور لوگوں کی بدعائیں نہ لیں۔ میں اگر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کی تحقیقات کرنے کی بات کرتا ہوں تو میرے خلاف تحقیقات کرنے کا کہ دیا جاتا ہے،نیب اس حکومت کا سیاسی ہتھکنڈے کا ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج تک یونس میمن یا یونس قدوائی کو دیکھا نہ ان سے ملا،میرے پاس چار برسوں میں سات وزارتیں رہیں، ان میں ان کی مداخلت یا کام صفر ہے۔