fbpx

سگے بھائی کا بہنوں کی جائیداد پر قبضہ،دھمکیاں، بہنوں کی انصاف کی دہائی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھائی نے بہنوں کا جائیداد پر قبضہ کر لیا

زمین کا تنازعہ 19 برس سے عدالت میں زیر سماعت ہے، تا ہم مبینہ طور پر سید اعتزاز حسین نے لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع جائیداد پر قبضہ کر لیا اور سوئی گیس و پانی کے میٹر بھی قبضے کے بعد اپنے نام کروا لئے، بھائی کی جانب سے جائیداد کے قبضے پر بہنوں نے آئی جی پنجاب،وزیراعلیٰ پنجاب ،وزیراعظم پاکستان سے انصاف کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں حق دلوایا جائے،

لاہورکے علاقے گلبرک میں 89 کینال پارک میں واقع جائیداد کے حوالہ سے سید اعتزاز احسن نے 2002 میں عدالت میں درخواست دی، جس پر بہنوں نے سٹے آرڈر لے لیا، 19 برس بیت گئے، سید اعتزاز احسن اس جائیداد کے حوالہ سے اپنی ملکیت عدالت میں ثابت نہیں کر سکا،جبکہ بہنوں کے پاس جائیداد کی تقسیم کے سب ثبوت موجود ہیں،باغی ٹی وی کوموصول ہونیوالی دستاویزات کے مطابق سید اعتزاز حسین نے اپنے بھائی پر 96 میں فائرنگ بھی کی تھی جس کا مقدمہ لاہورکے تھانہ غالب مارکیٹ میں درج ہے،

سید اعتزاز حسین نے بہن کے گھرویلڈنگ کا کام کرنے آنیوالے محمد شہزاد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسکو جان سے مارنے کی دھمکی دی، جس کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں درخواست دی گئی، پولیس نے میڈیکل کروایا، میڈیکل رپورٹ میں تشدد ثابت ہوا، واقعہ کے چار دن بعد سید اعتزاز حسین نے صلح کر لی، اور جائیداد کے تنازعہ کے حل کے لئے 2015 میں ایک تصفیہ کیا گیا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اعتزاز حسین اور انکی بہنیں ایک دوسرے کے خلاف کوئی کیس نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کو بے جا تنگ نہیں کریں گے،ملازمین کو بھی کچھ نہیں کہیں گے، اس مصالحت نامہ پر سید اعتزاز حسین سمیت فریق دوم، اور گوہوان کے بھی دستخط ہیں

صلح ہونے کے بعد اب سید اعتزاز احسن نے ہی تھانہ غالب مارکیٹ میں بہن کے خلاف ایک درخواست دی جس میں کہا گیا کہ بہن نے مجھے قتل کروانے کی کوشش کی ہے، سید اعتزاز حسین کی اس درخواست پر بہن کی جانب سے بھی جواب تھانے میں جمع کروا دیا گیا ہے جس میں حقیقت سے پولیس کو آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سید اعتزاز حسین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس نے گولی چلائی اور اس واقعہ کے بعد جب میری بہن بیرون ملک چلی گئی تو اس نے عمر شاہ کے حوالہ سے درخواست دے دی جو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہے،

سید اعتزاز حسین کے خلاف انکی بہنوں کی جانب سے تھانے میں متعدد بار درخواستیں دی گئیں لیکن پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی، اب سید اعتزاز حسین نے 29 اگست 2021 کو گھر پر زبردستی قبضہ کر لیا ، اس دوران اس نے زبردستی تالے توڑے، گھر میں لوٹ مار کی اور پھر قبضہ کر لیا جس کی درخواست تھانہ غالب مارکیٹ میں دی گئی، ملزم کے خلاف مقدمہ بھی درج ہو گیا، لیکن پولیس نے کاروائی نہیں کی

باغی ٹی وی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق سید اعتزاز حسین نے جائیداد ،گھر پر قبضے کے بعد بل بھی اپنے نام کروا لئے، باغی ٹی وی کومئی 2020 کا ایک بل ملا جو سوئی گیس کا ہے اور میٹر سید اعجاز حسین کے نام پر ہے، ملزم سید اعتزاز حسین نے گھر پر قبضہ اگست 2021 میں کیا اور اگست 2021 میں ہی سوئی گیس کا میٹر محکمے کی ملی بھگت سے اپنے نام کروا لیا، اب سوئی گیس کا اگست کا بل سید اعتزاز حسین کے نام پر آ رہا ہے،گھر پر قبضے کے بعد سید اعتزاز حسین نے عدالت میں ایک اور درخواست دائر کر دی ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ اس گھر کا مالک میں ہوں،

بہنوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ہماری جان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ہمیں حق دلوایا جائے، پنجاب پولیس قبضے چھڑوانے کے بڑے دعوے کر رہی ہے اب پولیس ہمارے گھر سے بھی قبضہ ختم کروائے، 19 برس سے جس گھر کے لئے ہم لڑ رہے ہیں، اب اس پر قبضہ ہو گیا ہے ،ہمارےپاس سب ثبوت موجود ہیں، قانونی دستاویزات موجود ہیں، اسکے باوجود ہمارے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے