fbpx

صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

کہتے ہیں پاکستان میں جس کو کوئی کام نہیں اتا وہ صحافت شروع کرتا ہے۔ اور اجکل تو سوشل میڈیا نے طوفان برپا کر دیا ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے جہاں روز کوئی نہ کوئی ایسا حدثہ پیش اتا ہے جس پہ انٹرنشنل میڈیا سے لیکر لوکل میڈیا کا توجہ بن جاتا ہے۔ میرے عادت ہے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائیل دیکھ لیتا ہوں شاید اج کے دور میں ہر کوئی ایسا ہی کرتا ہو۔ فیس بک وٹس اپ ٹویٹر پہ اکثر ان ہونے کی وجہ سے مختلف لوگوں سے رابطہ رہتا تو اج جب صبح اٹھا تو دیکھا ایک طوفان پرپا تھا کوہستان میں دھماکہ ہوا ۔ہر طرف فیس بک ٹویٹر وٹسپ ۔کچھ دوستوں کے کالز بھی تھی جو میڈیا سے ہیں ۔

میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہونے کی وجہ سے اکثر احباب رابط کر کے راے لتے ہیں یا ہوچھ لیتے ہیں ۔خیر جب میرے پہلے نظر پڑھی کے کوہستان میں چائیز بس پہ حملہ ہوا دس بندے ہلاک اور انتالیس ذخمی میں تو میں بسترے سے اٹھ کے بیٹھ گیا۔ میں اپنے علاقے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہوں اس کا جواب اپ کو میرے ٹویٹر وال سے ملے گا میں تقریباً ہر خبر پہ نظر رکھتا ۔باوجو کے میں ایک سائنیس کے طالب علم ہونے کے شوق سے صحافت کرتا ہوں لیکن صحافت کو عبادت سمجھ کے۔ خیر پہلے اس خبر کے طرف اتے ہیں جس کے وجی سے میں چونک کے بٹھ گیا تھا میں فیس بک اور ٹویٹر پہ کچھ مخلص دوستوں کے وال دیکھا وہاں بھی کوئی خاطر خواہ انفارمیشن نہیں تھی ۔میری عادت ہے میں تحقیق کے بغیر خبر نہیں لکھتا ۔میں سب سے پہلے کوہستان میں ہمارے دوست سجمل یادون کو کال ۔ ملایا پوچھا سنا ہے کوئی بلاسٹ ہوا ہے وہ عین وقت ہسپتال میں تھے ان کا کہنا تھا چائنیز گاڑی میں بلاسٹ ہوا ۔اب یہ دھماکہ ہے سلینڈر پھٹہ ہے فل وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کسی قسم کی کوئی کنفرمیشن افیشلز کے طرف سے نہیں ائی ۔

جب ڈی سی کوہستان سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا اب تحقیقات جاری ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ تھا اس وقت تک اصل صورت حال دوسرے طرف سوشل میڈیا پہ طوفان پرپا تھا بغیر تحقیق کے ہر کوئی اس حدثے دھماکہ بنا کے پیش کر رہا تھا ۔(اور ہاں یاد رہے گزشتہ رات کوہستان پٹن کے مقام پہ نیئٹکو کے ایک بس لینڈ سلائیڈ کے ضد میں ائی تھی جس کے وجہ سے پانچ افرا شہید ہوے تھے )۔ان میں اکثریت کاپی پیسٹ والی لوگ تھی جن کو خبر کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوتے ان میں اکثر نیوز لینک پہ اس نئٹکو بس کے تصویر چسپاں تھی کچھ نے جنوبی پنجاب کے ایک جدثے کی تصاویر تک تک چسپاں کی تھی یہ لوگ بس کسی کے وال سے خبر اٹھاتے اور چپکا دیتے ہیں۔ اج کے اس حدثہ جس کا ابھی تک افیشل کوئی اطلاع نہیں کے دھماکے کی وجہ کیا ہے اس پہ لوگوں کے اس اس قدر غلط خبروں سے ملک کو جو نقصان ہوا ہوگا وہ شاید ہمارے سوچ سے باہر ہے۔

ایک مممولی خبر سے ایک ملک کا امیج ذیرو ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں صحافت کے نام پہ کاپی پیسٹ چل رہا تحقیقی صحافت پاکستان میں ناہونے کے برابر ہے۔ اس تمام تر صورت حال میں حکومت وقت کچھ اصول بنانے چاے۔ ازادی اظہار رائے سب کا حق ہے لیکن جو انسان بھی خبر دے وہ ذمدار ہوگا وہ جھوٹ پہ مبنی خبر دینے کی صورت اس کی صافتی ممبر شپ معطل کردیا جاے ۔ جس بھی میڈیا گروپس کے جو بھی صحافی ہیں ان کو صحافت کی تربیت دی جاے ان کو ہر شعبے کے حواے سے ان کلاسسز ورک شاپ میں تربیت دیا جاے۔ سوشل میڈیا کے حوالے کوئی پالیسی وضع کی جائے