fbpx

صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی

صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی
ایک وقت تھا جب صحافت کو معزز پیشہ سمجھا جاتا تھا، جب لوگ کسی صحافی سے مل کر اس لیے خوش، ہوتے تھے کہ انکے مسائل کو ایوانوں تک پہنچایا جائے گا اور یقیناً کوئی نا کوئی حل بھی نکلےگا۔اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ مسائل نا صرف احکام بالا تک پہنچتے تھے بلکہ حل بھی ہوتے تھے۔ دوسری طرف لوگ صحافت سے یا صحافیوں سے ڈرتے بھی تھے کہ کوئی غلطی کی ایک بار منفی طرز، زندگی کی وجہ سے نام اخبارات کی زینت بنا تو باقی زندگی بہت مشکل ہوجائے گی۔ عزت خاک میں مل جائے گی۔ یعنی صحافت کی وجہ سے لوگوں کے طرز زندگی مختلف تھا۔ اخبارات بھی چند گنے چنے تھے، جنگ، نوائےوقت، ڈان، وغیرہ وغیرہ۔ ان اداروں سے وابستہ صحافیوں کا معاشرے میں ایک مقام تھا، نام تھا، ایک ہی چینل تھا پی ٹی وی اس، پے چلنے والے پروگرام حکومت پاکستان سے منظورشدہ ہوتے تھے۔ عام طور پر اپوزیشن کی نمائندگی ناہونے کے برابر تھی۔ پھر وقت بدلا پرائیویٹ چینل دھڑا دھڑ بنے ساتھ اخبارات بھی، اور یوں صحافت معزز پیشے سے نکل کر کمرشلائز ہوگیا۔ حکومتی اراکین نے اور اپوزیشن نے اپنے اپنے چینل چنے اور ان میں کام کرنے والے ملازمین کو اپنے ساتھ ملا لیا اپنی اپنی راہ ہموار کرنے میں لگ گئے اوراس راہ کی ہمواری میں وطن اوراسکی محبت کہیں دور رہ گئی۔ میڈیا چاہے پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، یا پھر سوشل رائے عامہ ہموار کرنے کا بہترین زریعہ ہے اور عوام کی رائے اپنے حق میں استعمال کرنے کرنے کے لیے ہر طریقہ ازمایا گیا۔ کہیں پیسے دیےگئے، کہیں پلاٹ دیے گئے، کہیں دھمکایا گیا، اور کہیں بچے صحافیوں کے باہر سیٹ کیے گئے۔

آج پاکستان کے نامور صحافی کسی نا کسی جماعت کے کانے ہیں پورے پورے چینلز مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں اس وقت جب پاکستان مسلم۔لیگ ن کی وائس چیئرمین مریم نواز نے مخالفین کی غیر اخلاقی ویڈیوز ریلیز کرنے کی دھمکی دی تو کئی چینلز جو کہ اس سیاسی جماعت کے پے رول پر ہے خوب پروپیگنڈہ کیا مریم نواز کو اس کا کوئی خاص فائدہ ابھی تک نہیں ہوا تھا کہ مریم کی اپنی آڈیوزریلز ہونا شروع ہوگئیں جس، میں وہ میڈیا کو مینج کرنے کا اعتراف کرتی نظر آئیں۔ جبکہ اس سے پہلے جب حکومت نے کہا تھا کہ مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا بند کی جائیں اور فیک نیوز پھیلانے پر میڈیا کو ریگولائز کیا جائے تو یہی مسلم۔لیگ ن نے بہت شور مچایا اور میڈیا کی آزادی پر سٹینڈ لیا جبکہ یہخود میڈیا مینج کرتی آئیں تھیں اور ساتھ فیک نیوز، پھیلانے کا سہرا بھی مریم نواز کے سر ہیں۔ ابھی ایک دن پہلے پھر ایک آڈیو لیک ہوئی جس میں مریم نواز نے پرویز رشید سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے کچھ صحافی جیو کے انکے خلاف ہیں بلکہ ایک لفظ استعمال کیا کہ "بھونکنے والے کتے بٹھا دیے گئے ہیں”۔ کیا یہ لفظ ایک جماعت کی وائس چیئرمین جوکہ خود کو مستقبل کی وزیراعظم سمجھتی ہیں سوٹ کرتا ہے؟ اور صحافیوں کو مینج کرنے کا کل ایک نیا طریقہ بتایا کہ کہ انکے والد صاحب آذربائیجان سے ٹوکریاں لائے تھے وہ ایک صحافی اور اینکر ہیں نصرت جاوید انکو دینی ہے اور دوسری ٹوکری رانا جواد کو دینی ہے۔ یعنی میڈیا مینجمنٹ جو لفافوں اور پلاٹوں سے شروع ہوئی تھی وہ ٹوکریوں تک جا پہنچی ہے۔ کل اس پرسوشل میڈیا پر بہت شور سنا گیا پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے باقاعدہ ٹوکریوں کی صحافت پر ٹرینڈ کیے۔ نہیں معلوم کہ اب مزید صحافت کہاں تک بدنام ہوگی۔ افسوس اس بات پر ہے کہ عمران خان کے لفظ اوئے کہنے پر سارا سارا دن پروگرام کرنے والے صحافی اور چینلز خود کے لیے لفظ کتا سن کر بھی تاحال خاموش ہیں۔ اس سے پہلے اسی لفظ سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بھی کہہ چکا ہے۔

@irumrae

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!