صحافی کا تو کام ہی چیزوں کو سامنے لانا ہے،عدالت کے ریمارکس

صحافی کا تو کام ہی چیزوں کو سامنے لانا ہے،عدالت کے ریمارکس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی فخر درانی کو ہراساں کیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

عدالت نے فخر درانی کو ہراساں کرنے سے روکنے کے حکم میں 26 نومبر تک توسیع کر دی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سمیت فریقین سے دوبارہ جواب طلب کر لیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافی کا تو کام ہی چیزوں کو سامنے لانا ہے،کیوں صحافی کو خوف ہو یا اس طرح کا تاثر پایا جائے کہ انکو ڈرایا جاتا ہے،ایسی درخواستیں کیوں آ رہی ہیں انکو نہیں آنا چاہیے،

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ کا غلط استعمال ہو رہا ہے،تاریخ اور الزام کے بغیر نوٹسز جاری ہو رہے ہیں،فریقین کو کہیں کہ جواب تو داخل کر دیں،یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کیوں کوئی صحافی خوف محسوس کرے،

فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

نااہلی کیس، فیصل واوڈا کو عدالت نے دی مہلت

فیصل واوڈا کی بیرون ملک جائیدادیں، ناقابل تردید ثبوت باغی ٹی وی نے حاصل کر لئے

نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

واضح رہے کہ سینئر صحافی فخر درانی نے غداری الزامات کی منظم مہم اور ہراساں کیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز نے اپنے پروگرام میں ایس ای سی پی ڈیٹا لیکج،انڈین ایجنسی اور سابق فوجی افسر سے رابطوں میں ملوث قرار دیا،

صحافی پر "را” سے تعلق اور غداری کا الزام،عدالت نے دوران سماعت دیئے اہم ریمارکس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.