fbpx

صحافی جمال خاشقچی کے قتل کے مزید سنسنی خیز پہلو سامنے آگئے

صحافی جمال خاشقچی کے قتل کے مزید سنسنی خیز پہلو سامنے آگئے

باغی ٹی وی :صحافی جمال خاشقچی اس وقت پھر خبروں ہیں جب سعودی شاہی خاندان کے ڈیتھ اسکواڈ اور مصر کے درمیان تعاون سے متعلق خبریں ایک بار پھر ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں.

تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جمال خاشقچی کو قتل کرنے کی خاطر ترکی جانے والے قاتل دستے کے طیارے نے ممنوعہ ادویات کے حصول کے لئے قاہرہ میں قیام کیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق جمال خاشقچی کو قتل کرنے کے لئے جو ممنوعہ ادویات استعمال ہوئیں ان کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں کہ وہ کس قسم کی تھیں اور ان دوائیوں کو کس نے سعودی عرب کے ڈیتھ اسکواڈ تک پہنچایا تھا .

امریکہ اور ترکی کی حکومتیں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ جمال خاشقچی کے قتل کا ذمہ دار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہے ان کے براہ راست حکم پر یہ مشن انجام پایا تھا۔

امریکی صدر بائڈن نے اس رپورٹ کی بنیاد پر محمد بن سلمان کو کٹہرے میں لانے کی بات کی تھی . لیکن انہوں نے آل سعود کے ساتھ اپنے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوجانے کے خدشات کے پیش نظر اپنے اس کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے .

ماہرین خیال کرتے ہیں امریکہ کو شاہ سلمان خاندان سے کچھ کام کروانے باقی ہیں جن کی انجام دہی کے لئے آل سعود ہی بہترین آپشن ہیں اور امریکہ ان کو ابھی گنوانا نہیں چاہتا.