fbpx

صحافتی تنظیموں نے ”پاکستان میڈیا ڈیولوپمنٹ آرڈی نینس” کو یکسر مسترد کردیا

صحافتی تنظیموں نے ”پاکستان میڈیا ڈیولوپمنٹ آرڈی نینس” کو یکسر مسترد کردیا

باغی ٹی وی : پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن سمیت ملک کی تمام بڑی صحافتی تنظیموں نے حکومت کے مجوزہ ”پاکستان میڈیا ڈیولوپمنٹ آرڈی نینس” کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی چئیر مین میاں اشتیاق علی نے مجوزہ آرڈی نینس کو صحافت پر براہِ راست حملہ اور آزادئ صحافت کو کچلنے کی ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

صوبائی سیکریٹری جنرل ملک ندیم کا کہنا ہے کہ اس آرڈی نینس کی آڑ میں کچھ حکومتی ارکان اور مافیا ڈان صحافیوں کو ان کے فرائض منصبی سے روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی صحافتی برادری اس چیلنج کو متحد ہوکر ناکام بنا دے گی۔ میڈیا ڈیویلوپمنٹ کا اگر ایسا ہی ارادہ ہے تو میڈیا کی تمام اہم تنظیموں سے اس سلسلے میں سفارشات لی جائیں اور ایک متوازی میڈیا ڈیویلوپمنٹ پلان مرتب کیا جائے۔
واضح رہے کہ موجودہ حکومت ایک آرڈیننس پاس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو ملک کے موجودہ میڈیا قوانین کو ختم کرکے ایک نئی پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) قائم کرے گا۔ جو خصوصی ٹریبونلز میں میڈیا سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی۔ جس کے فیصلوں پر صرف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل ہوسکتی ہے۔ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس ، 2021 ء نے صحافیوں اور صحافتی حقوق کے لئے سرگرم عمل تمام تنظیموں کو بے چین کر دیا ہے۔ اس نئے آرڈی نینس کے مندرجات سے یوں لگتا ہے جیسے حکومت اختلاف رائے کو ختم کرنے ،آزادئ اظہار اور سنسرشپ کو صحافتی اداروں کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اگرچہ ، حکومتی دعویٰ کے مطابق اس آرڈی نینس کا مقصد ایک "آزاد ، موثر اور شفاف” ادارہ تشکیل دینا ہے جس کے ذریعے ہر قسم کے ذرائع ابلاغ کو باقاعدہ بنایا جائے گا اور انہیں ایک واحد ،اضابطہ ریگولیٹری اور قانونی دائرہ اختیارمیں لایا جاسکےگا۔اس کے علاوہ نیا میڈیا ڈیویلوپمنٹ ریگولیٹر فلموں ، الیکٹرانک ، پرنٹ ، اور ڈیجیٹل میڈیا کی نگرانی کرے گا ۔ جن میں ویب ٹی وی ، سوشل میڈیا چینل ، اور نیوز ویب سائٹیس شامل ہیں۔اس آرڈیننس میں پریس کونسل آرڈیننس 2002 ، پریس ، اخبارات ، نیوز ایجنسیاں اور کتب رجسٹریشن آرڈیننس 2002 ، اخباری ملازمین ، (خدمات کے ایکٹ کی شرائط) 1973 ، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 سمیت میڈیا سے متعلق تمام موجودہ قوانین کو منسوخ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ جیسا کہ پیمرا ترمیمی ایکٹ 2007 ، اور دی موشن پکچرز آرڈیننس 1979 میں ترمیم کی گئی ہے۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات ، فرخ حبیب کے مطابق "اس سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز سے بھی بات چیت جاری ہے اور نتیجہ خیز بات چیت کے بعد اس آرڈیننس کو صدر کے پاس منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا ۔
پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (پی جے اے)،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور پاکستان بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر مجوزہ آرڈیننس کو ملک میں "میڈیا مارشل لاء” نافذ کرنے اور سنسرشپ کو ادارہ بنانے کی کوشش کے طور پر مسترد کردیا ہے۔
مجوزہ قانون کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ نئی میڈیا اتھارٹی کسی بھی لائسنس یا اندراج شدہ ادارہ ، اعلامیہ اور این او سی نہ رکھنے والا یا اس آرڈیننس کی کسی شق کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو کسی بھی جرم کی سزا سنائی جاسکتی ہے اور یہ سزا تین سال قید یا جرمانہ ہوسکتا ہے جس میں پچیس لاکھ روپے تک کی توسیع ہوسکتی ہے یا دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جاسکیں گی”۔
ڈرافٹ کے مطابق اتھارٹی کسی بھی شخصی یا میڈیا کے خلاف اس کے دائرہ اختیار میں بغیر شوکاز نوٹس جاری کیے یا ان کو سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر کارروائی کرسکتی ہے۔ مجوزہ اتھارٹی یا اس کا چیئرمین کسی بھی میڈیا تنظیم کا سامان ضبط کرنے یا لائسنس دہندگان کے احاطے کو سیل کرنے کا تحریری حکم بھی دے سکتا ہے۔
اتھارٹی کے فیصلے یا حکم سے اختلاف کرنے پر اپیل کےلئے 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکے گی۔ اس اپیل کا فیصلہ میڈیا ٹریبونلز 45 د…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.