ساہیوال:ایک اور سانحہ،متعدد نو مولود جاں بحق،عوام سراپا احتجاج

ساہیوال:ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال کے بچگانہ وارڈ میں اے سی خراب ہونے پر انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور گرمی کی وجہ سے متعدد نو مولود بچوں کی ہلاکت،میڈیا پر خبریں آنے کے بعد انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی،
وزیر صحت نے بھی کہا ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی،
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال میں بچگانہ وارڈ کے اے سی کی خرابی پر انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور گرمی بڑھ جانے کی وجہ سے یکے بعد دیگرے متعدد نو مولود بچے زندگی کی بازی ہار گئے جس پر لواحقین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصل آباد روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا،ہسپتال انتظامیہ نے پہلے پہل تو لواحقین پر دباؤ ڈال کر واقعہ کو دبانے کی روائتی کوششیں کی لیکن جیسے ہی یہ خبریں میڈیا پر آئیں،انتظامیہ کے مردہ گھوڑے میں گویا جان ہی نہیں بلکہ بجلی عود کر آئی،ڈپٹی کمشنر ساہیوال فوری طور پر ہسپتال پہنچے اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کا اے سی ہنگامی طور پر چلڈرن وارڈ میں لگا دیا گیا،دوسری طرف وزیراعلی پنجاب اور اور صوبائی وزیر صحت نے بھی واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کرلی،ڈپٹی کمشنر ساہیوال زمان وٹو کی طرف سے حکام بالا کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں بائیو میڈیکل انجینئر لقمان تابش کو اے سی کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیکر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور غفلت کے مرتکب دیگر عملہ کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا گیا ہے،اس وقت ایڈیشنل سیکریٹری صحت رفاقت علی ہسپتال پہنچ چکے ہیں اور ان کی زیرنگرانی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس آفس میں جاری ہے ایڈیشنل سیکریٹری صحت کا کہنا ہے کہ شام تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے گی اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال ڈویژن بھر میں اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے جہاں ڈویژن کے اضلاع کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی ہزاروں مریض روزانہ کی بنیاد پر علاج کے لیے تشریف لاتے ہیں کی گائنی وارڈ میں صرف 18 بیڈز ہیں اور اس وقت 44 کے لگ بھگ بچے زیر علاج ہیں،یاد رہے کہ اس ہسپتال میں بدانتظامی اور ڈاکٹرز کی طرف سے ڈیوٹی میں عدم دلچسپی کی بازگشت اکثر اوقات سنائی دی جاتی رہی ہے،عوامی حلقوں میں تحقیقاتی کمیٹی اور اس کی رپورٹس پر عدم اعتماد اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اس سے قبل سانحہ ساہیوال کے معاملے پر بھی ایسے ہی کئی اعلانات کیے گئے اور کمیٹیاں بنائیں گئیں تھیں لیکن ابھی تک لواحقین انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.