fbpx

بی فار یو کمپنی فراڈ:سیف الرحمان کی ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نےگرفتار کر لیا

سپریم کورٹ اسلام آباد(شیراز خان سے)بی فار یو کمپنی 119 اربوں روپے کے فراڈ میں ملوث سیف الرحمان کی ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے ملزم کو گرفتار کر لیا-

باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مضاربہ سکینڈل کے ملزم سیف الرحمان کیطرف سے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے داٸر درخواست کی سماعت کی جس میں ڈپیٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب مظفر عباسی ۔ملزم سیف الرحمان اور اسکا وکیل سردار لطیف کھوسہ اور دیگر متعلقین پیش ہوئے-

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون کے مطابق ایس ای سی پی نے ریفرنس نیب کو بھجوایا ہے جسٹس عمر عطاء بندیال نےکہا کہ اربوں روپے کا کیس ہے نیب تفتیش کرنا چاہتا ہے جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھاکہ سیف الرحمان کتنا ٹیکس ادا کرتا ہے؟

ڈپیٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب مظفر عباسی نے بتایا کہ ٹیکس گوشواروں کے مطابق سیف الرحمان تنخواہ دار ملازم ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھاکہ کیا ملزم کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرتا ہے؟

ڈپیٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب مظفر عباسی نے بتایا کہ کرپٹو کرنسی کاروبار کے شواہد نہیں ملے، ملزم سیف الرحمان کا بظاہر کوئی کاروبار نہیں ہے۔

ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ سیف الرحمان کے کیس پر کمپنیز ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ غیررجسٹرڈ کمپنیوں پر کمپنیز ایکٹ کیسے لاگو ہوسکتا ھے۔ایس ای سی پی نے خود نیب کو کارروائی کیلئے ریفرنس بھیجا ہے۔ایس ای سی پی نے معیشت اور قانون دیکھ کر ہی فیصلہ کیا ہوگا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نےکہا کہ ملزم کو احاطہ عدالت میں گرفتار نہ کیا جائے ملزم کو باہر جا کر بے شک گرفتار کر لیں۔

ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ ملزم ارب پتی ہے خود سرنڈر کرنے کا موقع دیا جائےاور احاطہ عدالت سے گرفتاری پر ملزم کی توہین عدالت کی درخواست پر کارروائی کی جائے۔

اس کے بعد عدالت نے کرپشن کےملزم سیف الرحمن کی عبوری ضمانت خارج کر دی.عدالت نے ڈی جی نیب عرفان نعیم منگی کا معافی نامہ مسترد کرتے ھوۓ کہا کہ گرفتاری میں ملوث اہلکاروں کو خود معافی مانگنا ہوگی،اس کے بعدعدالت نے احاطہ عدالت سے گرفتاری پر ملزم کی توہین عدالت کی درخواست دو ہفتے بعد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی-

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!