ورلڈ ہیڈر ایڈ

سائل دہلوی صاحب کی وفات

ستمبر ١٩٤٥*

*حضرتِ داغؔ دہلوی کے داماد، شاگرد اردو کلاسیکی غزل کے معروف شاعر” سائلؔ دہلوی صاحب “ کی وفات…*

*داغؔ* کی بنائی ہوئی لفظ ومعنی کی روایت کو برتنے اور آگے بڑھانے والوں میں *سائلؔ* کا نام بہت اہم ہے ۔ سائل داغ کے شاگرد بھی تھے اور پھر ان کے داماد بھی ہوئے انہوں نے تقریبا تمام کلاسیکی اصناف میں شاعری کی اور اپنے وقت میں برپا ہونے والی شعری محفلوں اور مشاعروں میں بھی بہت مقبول تھے ۔
*نواب سراج الدین خاں سائلؔ* کی پیدائش *۲۹ مارچ ۱۸۶۴ء* کو دہلی میں ہوئی ۔ وہ *مرزا شہاب الدین احمد خاں ثاقب* کے بیٹے اور *نواب ضیاالدین احمد خاں نیر درخشاں جاگیر دار لوہارو* کے پوتے تھے ۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا لہذا چچا اور داد کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے ۔ شاگرد *غالب نواب غلام حسین خاں محو* کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ۔
*داغؔ* کے انتقال کے بعد *سائلؔ* اور *بیخودؔ دہلوی*، *حضرتِ داغ* کی جانشینی کے دعوے دار تھے اس لئے ان دونوں کے حامیوں میں تکرار اور معرکے ہوتے رہے ۔ *شاہد احمد دہلوی* نے ان معرکوں کے بارے میں لکھا ہے ’’ دہلی میں *بیخود* والوں اور *سائلؔ* والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے ۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دہلی مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا ‘‘۔
*١٥ ستمبر ۱۹۴۵ء* کو *دہلی* میں *سائلؔ دہلوی* کا انتقال ہوا اور *صندل خانہ بابر مہرولی* میں سپرد خاک کیا گیا ۔

💐 *ممتاز شاعر سائلؔ دہلوی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…* 💐

گماں کس پر کریں صوفی ادھر ہے اس طرف واعظ
خدا رکھے محلے میں سبھی اللہ والے ہیں

*آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو*
*نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں*

ہمیشہ خونِ دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامی
نظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

*کھل گئی شمع تری ساری کراماتِ جمال*
*دیکھ پروانے کدھر کھول کے پر جاتے ہیں*

گماں کس پر کریں صوفی ادھر ہے اس طرف واعظ
خدا رکھے محلے میں سبھی اللہ والے ہیں

محتسب تسبیح کے دانوں پہ یہ گنتا رہا
کن نے پی کن نے نہ پی کن کن کے آگے جام تھا

ہمیشہ خونِ دل رویا ہوں میں لیکن سلیقے سے
نہ قطرہ آستیں پر ہے نہ دھبا جیب و دامن پر

*حق و ناحق جلانا ہو کسی کو تو جلا دینا*
*کوئی روئے تمہارے سامنے تم مسکرا دینا*

شباب کر دیا میرا تباہِ الفت نے
خزاں کے ہاتھ کی بوئی ہوئی بہار ہوں میں

*یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پر آتا ہے*
*جناب شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی*

*ترنم ریزیاں بزم سخن میں سن کے سائلؔ کی*
*گماں ہوتا ہے بلبل کے چہکنے کا گلستاں میں*

ملے غیروں سے مجھ کو رنج و غم یوں بھی ہے اور یوں بھی
وفا دشمن جفا جو کا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی

*تماشا دیکھ کر دنیا کا سائلؔ کو ہوئی حیرت*
*کہ تکتے رہ گئے بد گوہروں کا منہ گہر والے*

تمنائے دیدار ہے حسرت دل کہ تم جلوہ فرما ہو میں آنکھیں سینکوں
نہ کہہ دینا موسیٰ سے جیسے کہا تھا مری عرض پر لن ترانی کہو تو

*امیر کرتے ہیں عزت مری ہوں وہ سائلؔ*
*گلوں کے پہلو میں رہتا ہوں ایسا خار ہوں میں*

سائلؔ کو تم نہ چشم حقارت سے دیکھنا
نواب پانچ پشت سے اس کا خطاب ہے

🌸 *سائلؔ دہلوی* 🌸

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.