صلاح الدین کا عالم برزخ سے سکائپ پر وزیراعظم سے رابطہ —- فردوس جمال

صلاح الدین :ہیلو خان صاحب !
آپ قطر سے واپس آ گئے ہیں؟
خان صاحب: ہاں صلاح الدین میں واپس آ چکا ہوں.
صلاح الدین: مدنی ریاست کے امیر المؤمنین میرے بہیمانہ قتل کی کچھ خبر بھی ہوئی آپ کو؟
خان صاحب:جی صلاح الدین مجھے ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا.

صلاح الدین:یا امیر المومنین میرے قاتل معلوم ہیں مگر آزاد گھوم رہے ہیں.
خان صاحب: دیکھو صلاح الدین ابھی خزانہ خالی ہے.
صلاح الدین: یا امیر المومنین والمؤمنات خزانہ خالی ہونے سے میرے قتل کا تعلق ؟
خان صاحب:سنو صلاح الدین میں جب کرکٹ کھیلتا تھا میں نے دو چیزیں سیکھی ہیں ایک کیچ کو ہمیشہ مس کرنا اور دوسری مس کو ہمیشہ کیچ کرنا.

صلاح الدین:یا امیر المؤمنین والمؤمنات ان ظالموں نے میرے جسم کو استری سے جلایا،میرے نازک اعضاء پہ بجلی کے کرنٹ لگائے،میرے جلد کو اکھیڑا مجھ پر تشدد کے پہاڑ توڑے میں نے کیا بگاڑا تھا ان کا ؟
خان صاحب:صلاح الدین تم سمجھنے کی کوشش کرو دو نیو کلیر ممالک کے درمیان جنگ پاگل پن ہے جیت کسی کی بھی نہیں ہوتی ہے.

صلاح الدین:یا امیر المومنین والمؤمنات آپ کی پارٹی کا نام انصاف،نعرہ انصاف مگر مجھے کب انصاف ملے گا؟

خان صاحب:صلاح الدین ملک میں ظلم دیکھ کر میں بشری بی بی سے کہتا ہوں کہ دیکھو بشری کتنا ظلم ہو رہا ہے تو وہ کہتی ہیں آپ وزیر اعظم ہیں،پھر مجھے یاد آتا ہے کہ میں وزیر اعظم ہوں.

صلاح الدین:یا امیر المومنین و المؤمنات مجھے اگر انصاف نہ ملا تو کل اللہ مالک الملوک کی عدالت میں میرا ہاتھ اور آپ کا گریبان ہوگا.
خان صاحب : دیکھو صلاح الدین عثمان بزدار کوئی بڑی ٹوپی لمبے بوٹ نہیں پہنتا وہ سادہ آدمی ہے اس کے گھر میٹر نہیں لگا ہے.

صلاح الدین :(کال کاٹتا ہے،منہ چڑاتا ہے،اس نظام پر،حکمران پر اور اس ڈھکوسلے انصاف پر تھو کرتا ہے)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.