ورلڈ ہیڈر ایڈ

صلاح الدین قتل،سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید، آر پی او بہاولپور کی ڈھٹائی کہا تشدد نہیں ہوا

پولیس کی زیر حراست ملزم کی موت کیسے ہو گئی ؟سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے ، دوسری جانب آر پی او بہاولپور ڈھٹائی اختیار کیے ہوئے ہیں کہتے ہیں کوئی تشدد نہیں ہوا، سوشل میڈیا پر صلاح الدین پر تشدد کی تصاویر وائرل ہو چکی ہیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس تشدد سے صلاح الدین کے مارے جانے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے، پاکستانی قوم سوشل میڈیا پر صلاح الدین پر پولیس تشدد کی شدید مذمت کر رہی ہے اور پولیس میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے تو دوسری جانب آرپی او ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ صلاح الدین پر تشدد نہیں ہوا، حالانکہ تشدد کی ویڈیو اورتصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں.

آرپی او بہاولپور کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ابھی تک حتمی رائے نہیں دی جا سکتی، صلاح الدین کی ہلاکت کی تحقیقات بورڈ کر رہا ہے،حتمی کچھ نہیں کہہ سکتے ، آر پی اور نے ڈھٹائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اب تک تشدد کے شواہد نہیں ملے ،وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رحیم یار خان کو عہدے سے ہٹا دیا ،صلاح الدین کی ہارٹ اٹیک سے ہلاکت ہونے سے متعلق بھی کہنا قبل از وقت ہے

پولیس تشدد سے صلاح الدین قتل، وزیراعلیٰ کا جوڈیشل کمیشن کے لئے ہائیکوٹ کو خط

وکیل حسان نیازی کا کہنا ہے کہ صلاح الدین کے پورے جسم پر زخموں کے نشان تھے،وزیراعلیٰ پنجاب نے ابھی تک صلاح الدین کے خاندان سے تعزیت تک نہیں کی،تمام ویڈیوز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ صلاح الدین پر تشدد کیا گیا ،

پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے صلاح الدین کیس کا نوٹس لیا ہے،12ستمبر کو متعلقہ افسران کو طلب کررکھا ہے

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رحیم یار خان کو عہدے سے ہٹا دیا، ڈی پی او کوسنٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.