fbpx

سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو نئے نیب قانون کے تحت احتساب عدالت سے ریلیف مل گیا

سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو نئے نیب قانون کے تحت احتساب عدالت سے ریلیف مل گیا۔

احتساب عدالت میں جج محمد بشیر جعلی اکاؤنٹس سے جڑے کڈنی ہلز ریفرنس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو ریلیف دے دیا۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون طارق محمود سمیت سات ملزمان کو نیب ترمیمی بل کے تحت ریلیف ملا اور عدالت نے نیب سیکنڈ ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے درخواستوں پر فیصلہ سنایا اور کہا کہ نیب ترمیمی بل کے تحت ریفرنس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ واضح رہے کہ ریفرنس میں اعجاز ہارون، ندیم مانڈوی والا ، طارق محمود سمیت سات ملزمان نامزد تھے، جنہوں نے نیب ریفرنس کو چیلنج کررکھا تھا، احتساب عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے کڈنی ہلز ریفرنس میں سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی تھی، تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں کڈنی ہلز ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے دوران سماعت پیپلزپارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا سمیت دیگرملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی.

عدالت کی جانب سے ملزمان کو فرد جرم کی کاپی فراہم کی گئی تھی جبکہ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا، جبکہ رواں سال 2021 جنوری میں کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں سلیم مانڈوی والا کو ملزم نامزد کیا گیا تھا، دیگر ملزمان میں اعجاز ہارون، ندیم حکیم مانڈوی والا، عبدالقادر شیوانی، عبدالقیوم، عبدالغنی مجید اور مبینہ بے نامی طارق محمود شامل ہیں۔

جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل میں نیب کے ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹس سےملیں، اعجاز ہارون نے کڈنی ہلز فلک نما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں، سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو بیچنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی، انھوں نے پہلے ایک بے نامی کے نام پر پلاٹ خریدا، بعد میں پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شئیر خریدے، کڈنی ہلز پلاٹس کی فروخت کے بدلے میں رقم آئی ہی جعلی اکاؤنٹس سے تھی۔

احتساب عدالت میں پیش کردہ نیب ریفرنس کے مطابق سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14 کروڑ جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے، سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے رقم سے منگلا ویو کمپنی کے شیئر خریدے، یہ شیئرز بے نامی طارق محمود کے نام پر خریدے گئے۔