fbpx

مدینہ کی ریاست کے دعویدار عمران خان شاتم رسول کی حمایت میں بول پڑے

عمران خان نے برطانوی جریدے گارڈین کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے سلمان رشدی پر حملہ افسوسناک قرار دے دیا، شاتم رسول سلمان رشدی نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو کے حملے میں بری طرح زخمی ہوا ، گارڈین نے عمران خان سے سوال کیا کہ سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ ہوا، اس کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ خوفناک اور افسوسناک ہے،””رشدی (مسلمانوں کی نبی کریم سے محبت) سمجھ گئے، رشدی ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے، عرشدی ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے، "یہ غصہ میں عمل تو سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے،”

سابق وزیر اعظم عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "خوفناک” اور "افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses پر عالم اسلام کا غصہ قابل فہم تھا، بالکل ویسا ہی اس طرح کے حملے کا جواز بھی نہیں بن سکتا ہے کہ ان پر حملہ کیا جائے.

معروف اخبار دی گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان یہ بھی کہا کہ: طالبان کی پابندیوں کے باوجود افغان خواتین سے "اپنے حقوق کا دعویٰ” کرنے کی توقع رکھتے ہیں جس میں انہوں نے ایک فائر برانڈ کے طور پر اپنی ساکھ کو معتدل کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے جبکہ ایک آٹھ سال پرانے غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ان پر سیاست میں پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

عمران خان نے رشدی کے حوالے سے دی گارڈین کو مزید کہا کہ: "رشدی سمجھ گئے، کیونکہ وہ ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے۔ وہ ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے۔ وہ یہ جانتا تھا،” خان نے کہا۔ "تو غصہ تو میں سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے۔”

یاد رہے کہ ماضی میں تقریبا 2012 میں تحریک انصاف نے کہا تھا کہ وہ سلمان رشدی کے ساتھ کبھی بھی، کہیں بھی نہیں بیٹھیں گے، چاہے پاکستان کے لوگ انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں۔ یہ بات اس وقت کی تحریک انصاف پاکستان کی بانی رکن اور شعبہ خواتین کی صدر فوزیہ قصوری نے نیویارک میں اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران کی تھی.