ورلڈ ہیڈر ایڈ

150سے زائد سماجی خواتین کا مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اور انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی نامور سماجی کارکنوں نے آرٹیکل 370کو ختم کرنے کی مخالفت کر دی۔
ایمنیسٹی انٹر نیشنل نے مقبوضہ کشمیر سے انٹر نیٹ کی بندش کے خاتمے کا فوری مطالبہ کر دیا
بھارتی خواتین کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن (این ایف آئی ڈبلیو) کے زیراہتمام ایک سو پچاس سے زائد خواتین سماجی کارکنوں نے نئی دہلی میں احتجاجی دھرنا دیا اور مقبضو وادی کشمیر میں جمہوری حقوق اور انسانی حقوق کوبحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی ایشن، انجمن ترل پسند مصنفین ، ترقی پسند انجمن خواتین، دہلی یونیورسٹی اساتذہ ایسوسی ایشن، جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹس یونین ، انہد ، موبائل کریچ ، بالیگھا ٹرسٹ جیسی مختلف تنظیموں کی خواتین کارکنوں نے کہا کہ کشمیرمیں گزشتہ ایک مہینہ سے زائد عرصہ سے مواصلات کا نظام پوری طرح ٹھپ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں سے رابطہ کرنادشوار ہوگیا ہے۔
این ایف آئی ڈبلیو سکریٹری جنرل اینی راجہ نے کہا کہ موجودہ حکومت آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے جمہوری حقوق کو کچل رہی ہے اور اس کے پیچھے کارپوریٹ قوتوں کا بھی ہاتھ ہے ۔

آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن کی میمونہ ملا نے بتایا کہ انہوں نے خود جموں و کشمیرکا دورہ کیا ۔ انہوں نے وہاں کی خواتین سے بات چیت کرکے یہ پتہ لگایا کہ وہ کتنی تکلیفوں سے گزر رہی ہیں۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پکڑ کر ان پر تشدد کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ لاپتہ ہیں

مقررین نے یہ بھی کہا کہ یہ کشمیری خواتین ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ میڈیا سے بھی اپنی بات نہیں کرسکتی ہیں۔ اس موقع پرکئی کارکنوں نے نغموں اور اشعار پڑھ کر اپنی مزاحمت کا اظہار کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.