ورلڈ ہیڈر ایڈ

سمیع ابراہیم کو تھپڑپڑا تو فردوس عاشق نے کی معذرت،صحافیوں کی مذمت

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑا مارا تو تقریب میں موجود وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات سمیع ابراہیم سے یکجہتی کے لئے ان کے پاس پہنچ گئیں ،

 

تبدیلی سرکار یا تھپڑوں والی سرکار،فواد چودھری کا سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کی اطلاعات

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فواد چودھری اور سمیع ابراہیم فیصل آباد میں شادی کی تقریب میں شریک تھے، دونوں میں تلخ کلامی ہوئی اور وفاقی وزیر نے سمیع ابراہیم کو تھپڑ دے مارا جس پر موقع پر موجود لوگ اکٹھے ہو گئے، اس شادی کی تقریب میں وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھی جو فوری طور پر سمیع ابراہیم کے پاس آئیں اور معذرت کی.پنجاب کے صنعتی شہرفیصل آباد میں 92 نیوز اور کسان گھی کے مالک کی بیٹی کی شادی تھی جس میں صحافیوں اور سیاست دانوں کی بڑی تعداد شریک تھی.

فواد چودھری کی جانب سے سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کی خبر سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیلی، اس کے بعد وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے اس اقدام کی مذمت بھی کی گئی.

ڈاکٹر شاہد مسعود نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر کی جانب سے سمیع ابراھیم صاحب کو زدوکوب کرنا انتہائی قابل مذمت ھے!

ایک صارف نے لکھا کہ سمیع ابراہیم نے پانچ سال ن لیگ کیلئیے نفرت کا بیج بویا لیکن ن لیگ نے انکی زبان میں انہیں جواب نہ دیا اور جس پارٹی کیلئیے ن لیگ کے خلاف سازشیں کرتے رہے انہی کے وزیر کے ہاتھوں تھپڑ کھانے کے بعد ہر شخص سوچ رہا ہے کہ ظالموں کیلئیے اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

ایک صارف نے لکھا کہ سمیع ابراہیم کو چاہیے کہ فواد چوہدری کے خلاف قانونی کارروائی کرے.

لاہور پریس کلب کے سابق سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد نے ٹویٹر پر کہا کہ سناہے کہ فیصل آباد میں 92نیوز کے مالک میاں حنیف کی بیٹی کی شادی کے موقع پر وفاقی وزیر نے صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ وہاں موجود نام نہادصحافی قائدین تماشا دیکھتے رہے

تقریب میں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری بھی موجود تھے.

سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے کہا کہ طمانچہ سمیع ابراہیم کے چہرے پر نہیں پاکستان کی صحافت اور جمہوریت کے منه پر ہے ۔ صحافی اور صحافی یونین ، پریس کلب اس آمرانہ عمل پر احتجاج کرتے ہیں۔فواد چودھری کو سزا دینا ہوگی ۔ آمریت کا مقابلہ کرنے والے صحافیوں کو دبایا نہیں جا سکتا.

نجم ولی خان نے کہا کہ “میں سمیع ابراہیم کو صرف ایک تھپڑ مارنے کی شدید مذمت کرتا ہوں”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.