fbpx

سمیع ابراہیم پر دفتر کے باہر نامعلوم افراد کا تشدد

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سینئر صحافی سمیع ابراہیم پر نامعلوم افراد کے حملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ سینئر صحافی سمیع ابراہیم پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، ایسے ہی پہلے ایاز امیر پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ فسطائی ہتھکنڈوں سے صحافیوں کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، عوام کو دبا کر امریکی رجیم چینج سازش کو قبول کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ امریکی رجیم چینج سازش کے ذریعے بدمعاشوں کا ٹولہ اقتدار پر لاکر مسلط کیا گیا، عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کر کے انتشار کی طرف خطرناک حد تک دھکیلا جا رہا ہے۔

 

یاد رہے کہ آج شام سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم پر نامعلوم افراد نے حملہ میلوڈی میں ان کے آفس کے سامنے کیا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سے پہلے ایک شی میل نے پیسے مانگے جب پیسے دینے لگے تو اس نے حملہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق سمیع ابراہیم پرتشدد دوران ایک اور شخص آیا اور وڈیو بنانے لگ گیا۔ جس کےبعد تشدد کرنے والے سبز رنگ کی گاڑی میں حملہ آور فرار ہوئے۔

دوسری طرف سینئر اینکر سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ جب میں دفتر سے نکلا تو جہاں میری گاڑی پارک تھی میں وہاں گیا تو پہلے سے ہی دو سے تین لوگ موجود تھے جن میں ایک خواجہ سرا بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ سرا میرے پاس آیا اور کہا کہ کچھ خیرات دے دو، میری جیب میں جو پیسے تھے میں نے اس کو دیے تو اتنی دیر میں اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھ پر حملہ کر دیا۔

سمیع ابراہیم نے کہا کہ اس کے بعد دو اور بھی آگئے اور انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا اور کہا کہ تم نے گالیاں دی ہیں، میں نے پیچھے دیکھا تو ایک اور بندہ بھی تھا، مجھے ڈر تھا کہ یہ کہیں مجھے گاڑی میں نا لے جائیں۔

بول کے سینئر اینکر سمیع ابراہیم نے کہا کہ شکر ہے کہ میں اس وقت بول کے دفتر کے نیچے ہی تھا تو میں ہاتھ چھڑا کر واپس دفتر میں چلا گیا۔