fbpx

سمیعہ ممتاز نکلیں‌ چھپی رستم

اداکارہ سمیعہ ممتاز جو کہ نہ ہونے کے برابر انٹرویوز دیتی ہیں ان کے تیس سالہ شوبز کے کیرئیر میں انہوں نے کتنے انٹرویو دئیے یہ انگلیوں‌پر گنے جا سکتے ہیں. حال ہی میں انہوں نے اداکار نعمان اعجاز کے شو میں شرکت کی اس میں انہوں نے کھل کر کی دل کی باتیں . نعمان اعجاز کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بچپن میں اپنے والد کے ساتھ اجوکا تھیٹر دیکھنے جایا کرتی تھی وہاں ان دنوں میں‌مدیحہ گوہر کے بہت ڈرامے چلتے تھے میں ان سے بہت متاثر ہوئی ان کی اداکاری سے بہت متاثر ہوئی ان کو دیکھ کر میرا بھی دل کیا کہ میں اداکاری کروں . بس انہی کو دیکھتے ہوئے میں تھیٹر کی طرف آئی تھیٹر میں کام کیا اس کے بعد ڈرامہ کیرئیر شروع ہوا . انہوں نے بتایا کہ میرا پہلا ڈرامہ زرد

دوپہر تھی اس کے بعد ایک لمبے عرصے کے لئے میں امریکہ چلی گئی واپس آئی تو کافی سارے پرائیویٹ چینلز آچکے تھے . میری ذات زرہ بے نشاں سے کیرئیر کو دوبارہ بحال کیا اس کے بعد پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا. اس انٹرویو میں سمعیہ ممتاز ایک گلہ کرتی ہوئی نظر آئیں انہوں نے کہا کہ مجھے رونے دھونے والے کردار ملتے رہے. آڈینز تو شاید مجھے مختلف کرداروں میں دیکھنا چاہتی تھی لیکن پرڈیوسرز نے کبھی مجھے الگ قسم کے کردار نہیں دئیے. کامیڈی کردار تو کبھی دئیے ہی نہیں‌ایسے جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ مجھے ڈراموں‌میں رلانا ہی ہے. انہوں نے بتایا کہ وہ فارمنگ بھی کرتی ہیں ان کا ایک فارم ہائوس ہے اس میں انہوں نے ، گندم ، جو اور سبزیاں اگائی ہیں یہاں تک کہ مہندی بھی اگائی ہوئی ہے .