ورلڈ ہیڈر ایڈ

سانحہ نائن الیون کو 18 سال بیت چکے، امریکا اب بھی حصول مقاصد میں ناکام

سانحہ نائن الیون کو 18 سال بیت چکے ہیں، یہ وہ دن تھا جب امریکا سے چار مسافر طیارے ہائی جیک کیے گئے ، ان میں سے دو طیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیے گئے ایک طیارہ امریکہ کے فوجی ہیڈ کواٹر پینٹاگون پر جا گرا اور ایک طیارہ کسی عمارت کے ساتھ ٹکرانے میں ناکام رہا.ان طیاروں کے حملہ آوروں کی تعداد 19 تھی جن کا تعلق القاعدہ سے تھا ، القاعدہ کی قیادت اس وقت افغانستان میں بیٹھی تھی .جہاں طالبان کی حکومت تھی امریکا نے طالبان سے القاعدہ کے ذمہ داران کی حوالگی کا تقاضا کیا جسے طالبان نےیہ کہ کر ٹھکرا دیا کہ پہلے ٹھوس ثبوت لاؤ ہم خود ان پر مقدمہ چلائیں گے، ان حملوں کے نتیجے میں تین ہزار کےقریب امریکی موت کی وادی میں چلے گئے، اس سانحے کے بعد دنیا بھر کا سیاسی نقشہ بدل گیا. امریکا نے پورپ سےمل کر اتحاد بنایا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کر کے ایک دنیا میں‌ لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جس میں اکثیریت مسلمانوں کی تھی.
حملوں کے جواب میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کا جواز بنا کر افغانستان اور عراق پر حملہ کر دیا
اس جنگ کو آج 18 سال بیت چکے ہیں القاعدہ اور اسامہ بن لادن امریکا کے بقول ختم کر دیے گئے ہیں لیکن خطے میں امن اب بھی نہیں‌آیا، افغانستان اب بھی جنگ کی بھٹی میں جل رہا ہے.اور امریکا اس کمبل سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.