سانحہ ساہیوال، وکلاء نے عدالت میں ایسا مطالبہ کیا کہ لواحقین پریشان ہو گئے

0
64

سانحہ ساہیوال کے ملزمان کو عدالت پیش کر دیا گیا، وکیل نے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی استدعا کر دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ ساہیوال کیس کےتمام ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا، انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد حسین نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت وکلا نے مقدمے سے دہشتگردی کی دفعات ختم کرنےکی استدعا کر دی، عدالت نے پولیس سے 17 اگست کومقدمے کاریکارڈ طلب کرلیا.

ملزم صفدرحسین،احسن خان،ملزم رمضان،سیف اللہ،حسنین،ناصرنوازکو عدالت میں پیش کیا گیا

واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کارسواروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس میں ایک فیملی سوار تھی ،کمسن بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیاں ماری گئی تھیں، سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.

سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ کو مقتول خیل کے بھائی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،سپریم کورٹ میں مقتول خلیل کے بھائی جلیل کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق، وزارت داخلہ، وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی تحقیقات نے کیس کی شکل بدل دی، سانحہ ساہئوال کی تفتیش حقائق کو مدنظر رکھ کی نہیں کی گئی۔ جے آئی ٹی نے ویڈیوز سمیت دیگر شواہد ملحوظ خاطر نہیں رکھا، اہم گواہوں کو بھی زیر غور نہیں لایا گیا۔ سپریم کورٹ میں مقتول کے بھائی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ ا استعمال شاہد اسلحہ گولیوں کے خول قبضے میں نہیں لیے گئے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کرے۔

Leave a reply