fbpx

ثقافت کی حفاظت تحریر:  زہراء مرزا

ثقافت کسی بھی معاشرے یا علاقے کی پہچان ہوتی ہے. وہاں کا رہن سہن طور طریقے رسوم رواج لباس و خوراک یہ تمام کی تمام چیزیں ثقافت کہلاتی ہیں.
.
علاقے کے لوگوں کا مذہب کوئی بھی ہو. وہ ثقافت پر اثر انداز نہیں ہوتا.
تہذیب و تمدن پر مذہب کی چھاپ ممکن ہے مگر ثقافت پر نہیں.
.
کلچر کسی بھی علاقے کی فطری اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر وجود میں آتا ہے.
.
اس میں کسی خاص علاقے کے ماحول کا بڑا اثر شامل ہوتا ہے.
.
جس خطے میں ہم بستے ہیں اسے پاکستان کہتے ہیں، پاکستان میں ہر طرح کی زمین اور ماحول موجود ہے.
یوں ہر علاقے کی اپنی مختلف ثقافت ہے.
.
لباس کی بات کریں تو پاکستان میں
کہیں اجرک ثقافت ہے تو کہیں دھوتی کرتا، کہیں ٹوپی تو کہیں دستار
.
ہر علاقے کی عوام کا مہمان نوازی کا طریقہ مختلف ہے. مہمان نواز ہونا تہذیب ہے. اور کس علاقے میں کس طرح مہمان نوازی ہوتی ہے یہ چیز علاقے کی ثقافت کو ظاہر کرتی ہے.
.
تمہید مزید لمبی نہ ہو اسلیے تحریر کے مقصد کی جانب بڑھتے ہیں.
.
باقی خطوں کی طرح ہمارا خطہ پنجاب بھی ایک خوبصورت ثقافت رکھتا ہے.
لیکن جوں جوں ہم ماڈن ہوتے جا رہے ہیں. اور مادی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں ہم اپنی ثقافت سے دور ہو رہے ہیں.
ثقافت کے فروغ اور بقا کے لیے سب سے اہم آپکی زبان ہے.
آج ہماری اکثریت اپنے بچوں کو پنجابی سکھانے سے قاصر ہے. اور بچے کو پنجابی بولنے سے روک رہی ہے.
بات پنجابی تک نہیں رکی دور جدید میں جدت کے مارے ہوئے اردو کو ترک کر کے انگریزی بولنے اور سیکھنے پر مصر ہیں. اور اسے ہی فلاح کا واحد راستہ جانے ہوئے ہیں.
ہم نے ماڈرن ازم کے نام پر اپنے لباس سے دشمنی پال لی ہے. آج کالجز اور یونیورسٹیوں میں آپکو پنجابی لباس ذیب تن کیے نوجوان آٹے میں نمک کے برابر ملینگے.
.
چاینز، اٹالین، امریکن اور جاپانی کھانو کے ششکے نے ہم سے سرسوں کا ساگ،. دیسی مرغ، مکھن، لسی جیسی خوبصورت خوراک چھین لی ہے.
آج ہم فقط ماڈرن نظر آنے کی خاطر ان تمام چیزوں کو اپنی میز سے دور کر رہے ہیں.
.
ہم نے اپنے صوفی و فوک میوزک کو قدیم زمانے کی بورنگ چیزیں کہہ کر موسیقی میں پاپ اور راک کو ہی اپنا اوڑھنا بچونا بنا لیا ہے.
.
ہمارے ڈراموں اور فلموں میں ترقی یافتہ انڈسٹریز سے متاثر ہو کر اپنی ثقافت کو دکھانے کا رواج ختم ہو چکا ہے. اور ہم عوامی کنٹینٹ تخلیق کرنے میں ناکام ہیں.
.
 تحریر طول نہ پکڑ لے اس سے پہلے بات کو سمیٹتا ہوں. ہم نے جدت کے نام پر جن چیزوں کو مائنس کیا وہ ہماری ثقافت اور کلچر کو نگل رہی ہیں. ہم نے اخلاقی اقدار میں تنزلی کا سفر طے کر لیا ہے. اور گورا بننے کے چکر میں پنجابی بھی نہیں رہے.
اگر ہمیں اپنی شناخت زندہ رکھنی ہے تو اپنی ثقافت سے عشق کرنا ہوگا. تاکہ ہماری نسلوں کی پہچان ممکن ہو سکے.

شکریہ
zaramiirza@