ڈرامہ سیریل سراب میں ذہنی مریضہ کا کردار نبھانا چیلنج تھا سونیا حسین

پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور باصلاحیت اداکارہ سونیا حسین کا کہنا ہےکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سال میں وہ ایک ڈرامہ ایسا ضرور کریں جس سے دیکھنے والوں کو کچھ سیکھنے کو ملے اور وہ اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کا سوچیں۔

باغی ٹی وی :اداکارہ سونیا حسین ہمیشہ منفرد کرداروں میں نظر آتی ہیں اور ان کے ہر کردار کو مداحوں کی جانب سے خوب پذیرائی ملتی ہے ڈرامہ سیریل ’سراب‘ میں بھی وہ ایک ایسی ذہنی مریضہ کا کردار ادا کر رہی ہے جو بیمار تو ہیں، لیکن اُن کے گھر والے اُن کو بیمار نہیں سمجھتے –

حال ہی بی بی سی اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں سونیا حسین نے مختلف موضوعات کے ساتھ اپنے ڈرامے ’سراب‘ کے بارے میں بات کی اور ڈرامے کے دوران انے والے مسائل اور چیلنجز کے بارے میں بتایا انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سال میں وہ ایک ڈرامہ ایسا ضرور کریں جس سے دیکھنے والوں کو کچھ سیکھنے کو ملے اور وہ اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کا سوچیں۔

سونیا نے کہا کہ میرے نزدیک ایک آرٹسٹ ہونے کے ناطے ہماری بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم ان مسائل پر بات کریں جن پر لوگ عام طور پر بات نہیں کرتے معاشرے میں جہاں غیر اہم مسائل پر غیر ضروری باتیں ہوتی ہیں، وہیں اہم چیزوں پر بھی ہونی چاہییں جیسا کہ ذہنی امراض۔

سونیا حسین کا ذہنی صحت سے متعلق اہم پیغام

ان کا کہنا تھا کہ ہماری سوسائٹی میں بڑا مسئلہ ہے ہمارے ہاں چیزوں کو بہت پچیدہ کر دیا جاتا ہے ہمارے ہاں چاہے کسی بھی چیز کی بات لے لیں چاہے خواتین کے حقوق ہوں یا کملیکشن ہو یا کسی کے موٹے پتلے ہونے کی بات ہو چیزوں کو اتنا کمپلیکیٹ کیا گیا ہے کہ اس کو ڈسکس نہیں کیا جاتا اس لئے زیادہ مشکل ہو جاتی ہے-

’ڈپریشن، اینگزائیٹی، سٹریس جیسی بیماریاں ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں لیکن جن کو یہ لاحق ہوتی ہیں ہمارے ہاں انھیں لوگ ’پاگل‘ یا ’ابنارمل‘ قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ اور یہ چیزیں گھر سے ہی شروع ہوتی ہیں اسی طرح سکٹزوفرینیا کا معاملہ بھی ہے جس کے بارے میں لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا اور اگر کسی کو گھر میں یہ بیماری ہوتی ہے تو اسے چھپا دیا جاتا ہے ناکہ اس کا علاج کرایا جائے-

ڈرامہ سیریل سراب میں سونیا حسین نے ایک ذہنی مریضہ کا کردار ادا کیا ہے جو سکٹزوفرینیا کا شکار ہے۔ عام طور پر ہیروئنز اس قسم کا کردار کرنے سے منع کر دیتی ہیں، تاہم سونیا کا کہنا ہے کہ جب انہیں ڈرامہ آفر ہوا تو انھیں اس لیے بھی اچھا لگا کیونکہ یہ ڈرامہ پروڈکشن ہاؤس اور چینل ریٹنگز کے لیے نہیں کہ لوگ خوش یوں گے ٹی آر پی آنی ہے کہ ساس نے بہو کو جلا دیا نند نے تھپڑ مار دیا وغیرہ بلکہ لوگوں کو آگاہی دینے کی کوشش کر رہا ہے یہ دوسرے اسکرپٹس سے ہٹ کر تھا –

سکرپٹ پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ جب ایک چینل اور پروڈکشن ہاؤس اتنا بڑا رسک لے سکتے ہیں تو بطور اداکارہ میرا بھی تو فرض بنتا ہے کہ میں بھی اس کوشش میں اپنا حصہ ڈالوں۔

بیماری سے بیزاری کیوں ؟مریض کو دوا دیں، طعنہ نہیں سونیا حسین

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ذہنی مریضہ کا کردار نبھانا میرے لیے چیلنج تو تھا، میرے پیچھے ایک پوری ٹیم تھی محسن طلعت صاحب جو ڈائریکٹرر ہیں نے میرا بھرپور ساتھ دیا میرے خیال میں ڈائریکٹر ’کیپٹن آف دی شپ‘ ہوتا ہے، جب وہ اپنے کاندھوں پر ذمہ داری لے لیتا ہے تو ہم ایکٹرز کا کام آسان ہو جاتا ہے، جب میں نے سکرپٹ سائن نہیں کیا تھا تب ہی پروڈکشن ہاؤس اور ہدایتکار نے کہا تھا کہ آپ بے شک ڈرامہ سائن نہ کریں لیکن ایک بار ری ہیب سینٹر جا کر لوگوں سے مل لیں دیکھتے ہیں اپ کو سمجھ آتا ہے یا نہیں آتا-

سونیا حسین نے بتایا جب میں ری ہیب سینٹر گئیں تو وہاں دیکھا کہ مینٹل خواتین نارمل انداز میں اپنے بیگ کندھے پر لٹکائے بڑے مزے سے گھوم رہیں تھیں ہم خود سے ہی سوچتے ہیں کہ وہ کیسی ہوں گی بال بکھرے ہوں گے وغیرہ لیکن ایسا کچھ نہیں تھا-اس نے انھیں یہ ڈرامہ سائن کرنے پر ایک طرح سے مجبور کیا۔

سونیا حسین نے مداحوں کو خود کو سمجھنے کا مشورہ دے دیا

ایک ری ہیب سینٹر میں میں نے ایک خاتون سے کافی دیر بات کی اس نے مجھے بتایا کہ میں 15 دن جاب کرتی ہوں کسی ریسٹورنٹ میں اور پھر 15 دن یہاں رہتی ہوں کیونکہ میں ذہنی مریضہ ہوں نا تو مجھے تھراپی کی ضرورت ہے اسی لئے میں 15 دن یہاں گزارتی ہوں سونیا نے بتایا کہ مجھے بڑی یہ مناس بات لگی کہ یہ تو بڑی سمجھداری کی بات کر رہی ہے تو شاید یہ اس پورے پروسیسی سے نکل گئی ہے ٹرینمنٹ ہو چکا ہے اس کا – میں نے اس سے جاب کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ آپ کو 15 دن آف دے دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ناں کہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے-

آٹزم کو شیزوفیرینیا کی علامت قرار دینے پر تنقید کا سامنا کرنے پر سونیا حسین کا سوشل میڈیا صارفین کو جواب

میں انہیں دیکھ کر حیران ہوئی کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر بیمار دِکھتے نہیں، لیکن دراصل ہوتے ہیں۔ ہماری ملاقات کے بعد مجھے ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کا علاج جاری ہے اور وہ ایک دماغی عارضے میں مبتلا ہیں جو وہ کہہ رہی ہیں وہ سب خیالی ہے اور اُن کی اپنی طرف سے بنایا ہوا ہے۔

یہ ساری چیزیں سراب کی سکرپٹ میں تھیں جس کی وجہ سے میں نے اسے کرنے کی ٹھانی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ میرے خیال میں جیسے ہم جسمانی بیماری اور تکالیف کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اسی طرح ذہنی امراض کے لیے بھی ہمیں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور ڈرامے کے ذریعے ہم نے یہی بتانے کی کوشش کی ہے۔

سونیا ھسین نے کہا کہ آج کل کی جنریشن کتابیں نہیں پڑھتی اگر پڑھتی بھی ہے تو کتابوں کے ساتھ تربیت نہیں ہوتی سونیا حسین کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو اچھا کانٹینٹ (مواد یا موضوع) ملے گا تب ہی وہ بُرے کانٹینٹ کو بُرا سمجھیں گے۔

اداکارہ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پروڈیوسروں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ کانٹینٹ دینا کیا ہے۔ ان کے نزدیک جو دِکھ رہا ہے وہ بِک رہا ہے، اگر کچرا بھی بک رہا ہے تو چل رہا ہے۔ میرے خیال میں خراب کانٹینٹ دیں گے تو وہی لوگ بھی پسند کریں گے، ضروری ہے کہ ابھی سے لوگوں کی تربیت کریں تاکہ ان کی سوچ وسیع ہو اور ان کا ذہن کھلے۔

سونیا حسین اور سمیع خان جلد ہی نئے ڈرامے میں نظر آئیں گے

انہوں نے اپنے ساتھ سراب ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار سمیع خان کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میں یہ کردار نہ کر پاتی-

سونیا حسین کا کہنا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ ان کے حصے میں ’ایسی ہے تنہائی‘ ’میری گڑیا‘ اور ’عشق زہے نصیب‘ جیسے ڈرامے آئے، جو معاشرے کے کسی نہ کسی سنجیدہ موضوع کو اجاگر کرتے تھے۔

اداکارہ سونیا حسین نے اپنا یوٹیوب چینل کھول لیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.