ورلڈ ہیڈر ایڈ

سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کرنے پر اپوزیشن میدان میں آ گئی

سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کرنے پر اپوزیشن جماعتیں میدان میں آ گئیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کو پرائیوٹ اداروں کے ذریعے چلانے کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے ،اگرطاقت کےزورپر کچھ کریں گےتوکل ڈاکٹرزبھی اس کےخلاف کھڑےہوں گے،آرڈیننس کوئی ریگولرقانون سازی نہیں،آرڈیننس کے ذریعے ڈھائی سوارب کا قرضہ معاف کیا جا رہا ہے،وزیراعظم کا اس معاملے سےلاعلمی کا اظہارکرنا حیران کن ہے.

مسلم لیگ ن کی رہنما شائستہ پرویز ملک نے کہا ہے کہ آرڈیننس کولانے کے لیے اسمبلی کا اجلاس موَخرکیا گیا ، پہلے فری میڈیسن بند کی اس کےبعدپرچی کو50روپےتک بڑھایا،ہم سب صحت اورتعلیم کےشعبےمیں بہتری چاہتے ہیں،سرکاری اسپتالوں کو پرائیوٹائز کرنے سے غریبوں کومشکلات کا سامنا کرنا ہو گا ،سرکاری اسپتالوں کو پرائیوٹائزکرنے سےغریبوں کے مشکلات میں اضافہ ہوگا،

پنجاب کے تمام سرکاری تدریسی ہسپتال خودمختار انتظامیہ کے سپردآرڈیننس جاری کردیا گیا ہے ، اس آرڈینینس کی مدد سے سرکاری ہسپتالوں کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے حکومت نے نیا سسٹم متعارف کروا دیا ہے، اس سسٹم کے تحت اب سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے لیے نجی شعبہ سے بورڈ آف گورنرز کی ایسی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو سارے معاملات کا بغور جائزہ لے کر ہیلتھ سسٹم کو بہتر کرنے کی کوشش کرے گا، دوسری دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں سے وابستہ افراد کو حکومت کا یہ رویہ اچھا نہیں‌لگا، جبکہ شہری بھی یہی کہتے ہیں‌کہ مہنگائی کے بعد اب عوام سے مفت علاج کی سہولت بھی چھین لی گئی، پنجاب کے ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کا آرڈیننس جاری، گورنر کی منظوری کے بعد نافذ کر دیا گیا۔

پنجاب حکومت نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا، ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کا آرڈیننس جاری کردیا گیا، ٹیچنگ ہسپتالوں کا نظام پرائیویٹ ہسپتالوں پر مشتمل بورڈ آف گورنر کے سپرد کردیا گیا، ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرا میڈیکس کا سرکاری ملازمت کا درجہ ختم کر دیا گیا، کوئی سرکاری ڈاکٹر بھرتی ہوگا نہ نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف بھی پرائیوٹائزڈ ہوگا۔

اس نے سسٹم کے تحت ٹیچنگ ہسپتالوں کا نظام چلانے کیلئے پرنسپل اور ایم ایس کاعہدہ ختم کردیا گیا، ڈین، ہسپتال ڈائریکٹرز، میڈیکل ڈائریکٹرز، نرسنگ ڈائریکٹرز کاعہدہ متعارف، ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے فنانس ڈائریکٹرز کا عہدہ بھی متعارف کرا دیا گیا، ٹیچنگ ہسپتالوں میں فری علاج معالجہ بورڈ آف گورنر کی صوابدید پر ہوگا۔بورڈ آف گورنر کے پاس ٹیچنگ ہسپتالوں میں تقرر و تبادلوں کا اختیار ہوگا، بورڈ آف گورنر ہی ٹیچنگ ہسپتالوں میں نظام چلانے کا مجاز ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.