سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

0
57

سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں کوروناوائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،چیئرمین این ڈی ایم اے جنرل افضل عدالت میں پیش ہوئے

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اخراجات پر وضاحت کے لیے چیئرمین این ڈی ایم اے موجود ہیں،جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں ہے، ہماری تشویش سروسزکے معیارپرہے،کورونا کے مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے،سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ،ہمارے ملازمین کا سرکاری لیب سے مثبت اور نجی سے منفی آیا،

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کورونا کے مریض کو دنیا جہاںکی ادویات لگا دی جاتی ہیں،لاہور میں ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کورونا نہیں لیکن ڈاکٹر چھوڑ نہیں رہے تھے، قرنطینہ سنٹرز میں واش رومز صاف نہیں ہوتے پانی نہیں ہوتا،قرنطینہ سنٹرز میں 10،10 لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سوشل میڈیا پر قرنطینہ سنٹرز کی حالت زار کی ویڈیوزچل رہی ہیں،مشتبہ مریض ویڈیوز میں تارکین وطن کو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں نہ آئیں،ہماری معیشت کا شمار افغانستان،یمن اور صومالیہ سے کیا جاتا ہے،ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں لوگوں کا احساس نہیں،ہماری تشویش سروسز کے معیار سے متعلق ہے،

چیئرمین این ڈی ایم اے کو عدالت نے روسٹرم پر طلب کرلیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کی رپورٹ میں پی پی ایز بنانے کی کمپنی کا ذکر ہے،ڈیسٹوپاکستان آرمی کیا ہے ہے؟ کیا یہ کسی پرائیویٹ شخص کی کمپنی ہے،ایک اسپیشل جہاز بھیج کر اس کمپنی کی مشینری منگوائی گئی ہے،

پنجاب میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ الارمنگ ، سپریم کورٹ

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

کرونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، چیف جسٹس

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ڈیسٹو کمپنی ایس پی ڈی کی زیلی کمپنی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چین سے جوبھی سامان منگوایا جا ریا ہے وہ ایک ہی چینی کمپنی سے منگوایا گیاہے ،ہمارے ملک میں گریجویٹس کو استعمال نہیں کیا جا رہا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم وینٹی لیٹرز بنانے کے قابل ہو چکے ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کچھ سیاسی طور پر ہورہا ہے،

کرونا از خود نوٹس کیس، سماعت کل تک ملتوی، تحریری حکمنامہ جاری

Leave a reply