سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

0
63

سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ آج کی اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے کے سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات بلکل ختم ہونے جا رہے ہیں۔ یا پاکستان سے تعلقات قائم کیئے رکھنا سعودی عرب کی مجبوری ہے۔ وہ مجبوریاں کون کون سی ہیں۔ ناراضگی کی اصل وجوہات کیا ہیں، کیا ایک وجہ ہے یا کافی وجوہات شامل ہیں۔ کیا پاکستان سعودی عرب کے مقابلے میں بے بس ہو چکا ہے ۔؟یا Trump card
ابھی بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں آپ کو اس صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کروں آپ کو ایک خبر دوں کہ اسرائیل میں پالیمنٹ Dissolveہو چکی ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت ختم ہو چکی ہے وہ نیتن یاہو جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو بھی تگنی کا ناچ نچایا ہوا تھا اور اس وقت دنیا کے ہر معاملے میں اسرائیل پھنسا ہوا ہے اس کے جانے سے خطے پر کیا اثرات پڑیں گے اس پر کسی اور وقت بات کریں گے لیکن کچھ سوال جو آنے والے دنوں مین مشرق وسطی میں حالات کی سمت کا تعین کریں گے وہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے دوسری جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی کیونکہ اس کے پاس حکومت بنانے کے لیئے مطلوبہ سیٹیں موجود نہیں تھی۔ اور پاور شیئرنگ کے فارمولے پر حکومت بنائی گئی تھی لیکن اب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نیتن یاہونے بجٹ کو پاس نہ کروا کر اسمبلی توڑنے کا جواز بنایا ہے۔ دو ہزار اکیس کے اخر میں Netanyahuنےوزیر اعظم کا عہدہ Mr Gantz کو منتقل کرنا تھا جو تیس سیٹوں کے ساتھ وبا کی وجہ سےان کے اتحادی بنے تھے۔ کیونکہ دو سالوں میں اسرائیل میں یہ چوتھا الیکشن ہو گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کے جانے سے خطے کی سیاست پر کیا فرق پڑے گا۔کیا اب اسرائیل کی دنیا بھر میں ممالک کو تسلیم کروانے کی کمپین ختم ہو جائے گی۔؟کیا گلف ممالک کے اسرائیل سے تعلقات میں کوئی فرق آئے گا۔؟

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تو اس کا جواب ہے کچھ بھی نہیں ، یہ تو ہو سکتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اسرائیل کو ٹرمپ کی طرح انکھیں بند کر کے سپورٹ نہ کرے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ اسرائیل کو سپورٹ نہ کیا جائے۔ امریکہ میں موجود اسرائیلی لابی ہرامریکی صدر سے اسرائیل کے لیئے خاص رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔لیکن نئے سروے کے مطابق نیتن یاہو مارچ میں ہونے والے الیکشن میں اکشریت حاصل کر لیں گے اور دوبارہ آ کر گلف ممالک کے ساتھ مل کر نئے اتحاد کے ذریعے معاملات کو علاقائی سطح پر دیکھا جائے گا۔ جس میں ایران، امن مزاکرات سمیت دیگر معاملات شامل ہوں گے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب بات کرتے ہیں سعودی عرب کی۔۔ پاکستان اور سعودی عرب کو لے کر آئے روز کوئی نہ کوئی نئی بات سننے کو ملتی ہے کہ کیوں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہیں۔ پہلے تو حکومت یہ ماننے کے لیئے تیار نہیں ہے کہ واقعی سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات خراب ہیں۔ایک طرف سعودی عرب مشکل وقت میں ادھار کی واپسی پر ایک لمحہ بھی دینے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ جس کی ماضی مین مثال نہیں ملتی ، اگر تاریخ سے رہنمائی لی جائے تو ، سعودی عرب کے لئے پاکستان سے اپنے قرضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا غیر معمولی بات ہے۔کیونکہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی ضروریات کا خیال رکھا ہے تو دوسری طرف
نومبر میں نائیجر میں او آئی سئ اجلاس میں کشمیر کے بارے میں ایک سخت الفاظ میں بیان جاری کیا جس میں تمام پاکستانی مطالبات کو پورا کیا گیا جو کہ سعودی عرب کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک فیصلے کو دیکھیں تو حالات خراب ہیں دوسرے کو دیکھیں تو حالات ٹھیک ہیں۔کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے، چین ابھر رہا ہے، دنیا میں طاقت کے نئے مرکز بن رہے ہیں، بہت سے مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، امریکہ میں نئی حکومت آنے سے کچھ تبدیلی متوقع ہے جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تو ایسی صورت حال میں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے تعلقات بھی ایک جیسے رہیں گے۔اب سوال پیداہوتا ہے کہ اس میں صرف ایک مسئلہ درپیش ہے یا کافی سارے معاملات مل کر یہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔؟

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت مشرق وسطہ جو ہمیشہ سے ہی امریکی مفادات کا مرکز رہا ہے میں بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ دوست دشمن اور دشمن دوست بن رہے ہیں اورگلف ممالک کے ذریعے اور خاص طور پر سعودی عرب کی ہدایات پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سےپاکستان کا انکار سعودی عرب کے غصے میں اضافہ کر رہا ہے۔لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے جب ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط ادا کی تھی تو اس وقت صرف شاہ محمود قریشی کا بیان تھا اس وقت اسرائیل کے ایشو نے جنم نہیں لیا تھا۔اگر پاکستان اسرائیل کے معاملے پر سعودی عرب کی بات من و عن مان لیتا تو شائد چیزیں بہتر ہو جاتی لیکن اب سعودی عرب پاکستان کو منانے کے لیئے Stick & carretکا استعمال کر رہا ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ لیکن اب سعودی عرب نے پاکستان کی کمزوری بھارت کو بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے بھارتی آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب کو پاکستان کے منہ پر تمانچہ سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن کیا بھارت پاکستان کی کمی پوری کرنے کے قابل ہے؟

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت پوری کوشش کر رہا ہے کہ اسرائیل کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے لیئے گلف میں معاشی اور سیاسی فائدے حاصل کیئے جائیں اور پاکستان کو دبایا جائے۔اس صورتحال میں سعودی عرب پاکستان کو واضح پیغام دے چکا ہے کہ اب Free lunch نہیں ملے گا۔اب پاکستانیوں کو نوکری کے مواقع فراہم کرنے اور پاکستان کی معیشت کو بیل آوٹ دینے کے بدلے سعودی عرب کو اپنی سیاسی پوزیشن پر پاکستان کی سپورٹ چائیے
اس وقت وبا کی تباہ کاریوں کے باوجود پاکستان میں سب سے زیادہ ڈالر بیرونی کارکنوں کی ترسیلات کی صورت میں آرہا ہے۔ جس میں بڑا حصہ سعودی عرب اور گلف ممالک سے آتا ہے۔عرب امارات سے ویزوں کے معاملے پر تاخیر، سعودی عرب سے تیل بند، دو ارب ڈالر کا قرض لے کر واپسی، بھارتی آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب۔ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیئے عرب ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات میں توازن کی روائیتی پالیسی اپنا راستہ لے رہی ہے۔سعودی عرب کی جانب سے بھارت سے تعلقات بہتر کرنا بھی اس کی Stick & carrot پالیسی کا حصہ ہے۔ جوپاکستان پر ایران کے حوالے سے اس کی پالیسی پر نظر ثانی، اسرائیل کا معاملہ اور پاکستان کی طرف سے دو ہزار پندرہ میں یمن وار میں شرکت سے انکار کی وجہ سے ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب سعودی عرب پاکستان کو یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اب بھی پاکستان کے ساتھ معاشی اورStreategicتعلقات جاری رکھنا ممکن ہیں مگر اس کے لیئے نئے اصول وضح کرنے پڑیں گے جہاں باہمی مطالبات اور توقعات کو نئی شکل دینے کی ضرورت ہے۔اس وقت سعودی عرب کی نوجوان قیادت امریکہ میں انتظامیہ کی تبدیلی کی وجہ سے بھی گھبراہٹ اور ہلچل کا شکار ہے۔ اوپر سے یمن سعودی عرب کا ویتنام بن چکا ہے۔ایران سے امریکی ڈیل کی بحالی سعودی عرب کے لیئے ڈرونا خواب بن چکا ہے جبکہ پاکستان کے چین کی وجہ سے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات بھی سعودی لیڈر شپ کے لیئے پریشانی کا سبب ہیں۔حال ہی میں ، پاکستان اور ایران نے اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لئے گوادر اور چابہار بندرگاہوں کے درمیان پہلا سرحدی پوائنٹ کھولا ہے۔اسی طرح ، ترکی کے ساتھ پاکستان کی قربت نے بھی سعودیوں کو ناراض کیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسلم دنیا میں سعودی عرب کی قیادت کو متنازعہ قرار دیا ہے۔ دسمبر 2019 میں ، سعودی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو اخری وقت میں ترکی ، قطر ، ایران اور ملائشیا کی مشترکہ میزبانی میں ، کوالالمپور سمٹ سے نکلنا پڑا۔ اس کو
ایک چیلنج سمجھا گیا تھا۔ترکی اور پاکستان نے حال ہی میں دفاع اور معیشت کے حوالے سے کئی معاہدے کیئے ہیں۔ ترکی چین پاکستان اقتصادی راہداری میں بھی سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے۔ سب سے بڑھ کر ، ترکی سعودی عرب کے برعکس ، اسلام آباد کو کشمیر پر غیر مشروط مدد فراہم کرتا ہے۔اس لیئے سعودی عرب کے ساتھان دو طرفہ تعلقات میں وقتی طور پر یا مختصر عرصے کے لیئے تعطل رہنے کا امکان ہے لیکن چند وجوہات کی بنا پر اس کے مکمل طور پر ختم ہونے کے امکان کم ہیں۔سعودی عرب میں مسلمانوں کے دو مقدس مقامات مکہ اور مدینہ ہیں جو اسے عالم اسلام کا لیڈر بننے کے لیئے بھی ایک اہم جواز فراہم کرتا ہے۔پاکستان دوسری بڑی مسلم قوم ہے اور مسلم دنیا کا واحد جوہری ملک ہے۔ یہ دونوں خصوصیات پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک لازمی اور انوکھا مقام عطا کرتی ہیں۔ لہذا ، سعودی عرب، پاکستان کو ایک حد سے زیادہ دیوار سے لگانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ سعودی عرب کو مسلم دنیا میں اپنا مقام قائم رکھنے کے لیئے پاکستان کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کی پاکستان کو اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لیئے سعودی پیسوں کی۔دوسرا پاکستانی سعودی عرب میں دوسرا بڑاغیر ملکی گروپ ہیں۔سعودی عرب کی طرف سے ہزاروں پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا ہے لیکن لاکھوں لوگوں کو اس طرح Replace کرنا آسان نہیں ہو گا۔ کیونکہ سعودی عرب کو اتنی سستی لیبر جو اس ملک سے روحانی وجوہات کی وجہ سے محبت بھی کرتی ہو حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسرا جہاں پاکستان کو سعودی عرب سے اورسیز پاکستانی پیسہ بھیجتے ہیں وہاں پانچ لاکھ سے زاہد پاکستانی ہر سال عمرہ کے لیئے ، جبکہ دو لاکھ پاکستانی حج کے لیئے ہر سال سعودی عرب جاتے ہیں اور ہر سال یہ آٹھ لاکھ پاکستانی اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ ایک غریب ساری عمر پیسہ جمع کر کے بڑی خوشی سے حج اور عمرہ کرنے جاتا ہے۔ جو سعودی عرب کی تیل سے الگ آمدنی کا سبب بنتی ہے۔ سعودی عرب اس سالانہ آمدنی کو بھی چھیڑنے کا نہیں سوچ سکتا۔اس لیئے سعودی عرب اور گلف ممالک کے تعلقات بلکل منقطع ہونے کا خدشہ نہیں ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقاتStreategic سے روائیتی تعلقات میں تبدیل ہو جائیں گے۔لیکن جب تک پاکستان پر تنہائی کی لٹکتی ہوئی تلوا ر ہے پاکستان کو خارجہ پالیسی کے میدان میں Extra ordinary کارکردگی دیکھانی پڑے گی۔

Leave a reply