fbpx

سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

عربی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ گھر کا انتخاب کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا ہمسایہ کیسا ہوگا کیونکہ ایک اچھا ہمسایہ آپ کے لئے رحمت اور ایک برا ہمسایہ آپ کے لئے بہت بڑی زحمت بن سکتا ہے۔لیکن جب ہم Globally
دیکھتے ہیں تو ممالک کے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہمسائے کا انتخاب کر سکیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کئی ایسے تنازعے ہیں جو کہ مختلف ہمسایوں کے درمیان ہیں جس میں ایک مثال پاکستان اور انڈیا کی ہے اس کے علاوہ فلسطین اور اسرائیل ہیں ساوتھ کوریا اور نارتھ کوریا ہیں۔ ایسے میں صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ آپ کو ہر حال میں ان کے ساتھ رہنا ہے جس کی وجہ سے کبھی ان ہمسایوں کے درمیان شدید لڑائی کا ماحول ہوتا ہے تو کبھی یہ اپنے مفادات کے لئے ایک دوسرے کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاملات کسی نہ کسی طرح چلتے رہیں۔
اور ایسا ہی کچھ معاملہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ دونوں ممالک آپس میں لڑتے رہے ہیں لیکن اب یہ ان لڑائیوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں سفارتی سطح پر کئی ایسی ملاقاتیں ہوئیں ہیں جو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ چند ماہ پہلے تین ایرانی سفارت کار اسلامی تعاون تنظیم میں ذمہ داری سنبھالنے سعودی عرب بھی گئے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بھی کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔

تہران وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا یہ بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک یعنی سعودی عرب صدر ریئسی کی انتظامیہ کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ایسا کیوں ہو رہا ہے؟؟
اب ان دونوں ممالک کو یہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ تعلقات کو بہتر کیا جائے؟؟ماضی میں یہ کیوں آپس میں لڑتے رہے ہیں؟؟کیا ان کی لڑائی مذہبی تھی سیاسی تھی یا دونوں فیکٹر تھے؟؟

سعودی عرب اور ایران کے درمیان ظاہری اختلاف تو ان کے فرقوں کی وجہ سے ہے سعودی عرب کا تعلق سنی فرقے سے ہے جبکہ ایران کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ ممالک اپنے تعلقات صرف فرقوں کی بنیاد پر نہیں بناتے اور نہ ہی فرقوں کی وجہ سے تعلقات خراب کرتے ہیں۔عالم اسلام پر یا دنیائے عرب پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ سعودی عرب جو ایران کو ایک شیعہ ملک کہہ کر اس کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجہ پیش کیا کرتا تھا اس کے سنی ممالک سے بھی شدید گہرے اختلافات ہیں۔ترکی شیعہ ملک نہيں ہے لیکن اس کے ساتھ سعودی عرب کے اختلافات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔یمن شیعہ ملک نہیں ہے لیکن سعودی عرب نے اس پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔دوسری جانب ایران کو اگر دیکھا جائے تو جہاں سعودی عرب کے ساتھ اس کے اختلافات رہے ہیں وہیں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔فلسطینی تنظیموں کے ساتھ ایران کے تعلقات کا معاملہ تو اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں فلسطینی تنظیموں کو ایران کی مکمل مدد حاصل رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں ہمیشہ ہی یا ہر ایک بات پر ہی اختلافات نہیں رہے ہیں بلکہ کئی موڑ ایسے بھی آئے ہیں جب دونوں مل کر چلتے رہے ہیں۔جس کی ایک مثال امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی جنگ کی ہے جس میں سعودی عرب اور ایران دونوں نے امریکہ کی مدد کی تھی تاکہ روس کو خلیجی ممالک تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

اس کے بعد 1960میں جب مصر نے یمن میں چھیڑ چھاڑ شروع کی اس وقت بھی ریاض اور تہران نے مل کر یمن میں شیعہ فرقے کے لوگوں کی مدد کی تھی۔اس وقت تک یہ دونوں ممالک Regional security کے لئے امریکہ کے Twin pilars
کہلائے جاتے تھے۔ اور ان کے آپس میں بہت گہرے سیاسی اور سفارتی تعلقات تھے۔1978تک جب ایران میں رضا پہلووی کی حکومت تھی اور سعودی عرب میں King khalidکی حکومت تھی دونوں ممالک کے بہترین تعلقات تھے ان کے درمیان مختلف موقعوں پر ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان دونون نے اپنے اپنے ممالک کو Modrenizeکرنے کے لئے آپس میں مل کر کئی پروگرام بھی شروع کر رکھے تھے۔لیکن صرف ایک سال بعد ہی سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ 1979میں جب ایران میں انقلاب نے سر اٹھایا اور اہل تشیعہ لوگ جو کہ اکثریت میں تھے انھوں نے آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں رضا پہلوون کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور ایران جو کہ ایک سیکولر اور ماڈرن ملک تھا اس کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔اور اسی سال
1979میں ہی سعودی عرب مین بھی تبدیلی آئی جب مکہ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا اور سعودی عرب بھی ماڈرن ازم سے واپس اپنے Tribal systemاور بنیاد پرستی کی طرف مڑ گیا۔اور بات یہاں تک ہی نہیں رکی بلکہ ایران نے اپنے فرقے کے نظریات اور سعودی عرب نے اپنے نظریات کو اپنے بارڈر سے باہر دوسرے ممالک تک پھیلانا اور ان پر اثر انداز ہونا بھی شروع کر دیا۔

اور یہ ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ دونوں کے پاس ایسا کرنے کے لئے وافر وسائل بھی موجود تھے۔لیکن ان کی ایک مزوری بھی تھی جو کہ بعد میں تمام خرابی کی جڑ بنی۔اور وہ کمزوری ان کی مذہبی اور Ethnic minorities
تھیں اور مشکل یہ تھی کہ یہ اقلیتیں ان ممالک کے ان صوبوں میں آباد تھیں جو کہ تیل کے وسائل سے مالا مال تھے۔
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ فرقے کے لوگ بڑی تعداد میں آباد تھے۔ اسی طرح ایران کے صوبے خوزستان میں سنی آبادی کی اکثریت تھی۔ اور اسی صوبے میں ایران کے 80%تیل کے ذخائر بھی موجود تھے۔ اب ایران کو خطرہ یہ تھا کہ کہیں ان کے سنی لوگ سعودی عرب سے تعلق بڑھا کر ان کے ساتھ نہ مل جائیں اور ان کی حکومت کے لئے مشکلات نہ کھڑی کر دیں اور سعودی عرب کو بھی یہی ڈر تھا کہ ان کی شیعہ اقلیت ایران کے ساتھ مل کر حالات خراب کر سکتی ہے اس لئے ان دونوں ممالک کے لوگوں نے ان اقلیتوں کو کنٹرول کرنا اور دبانا شروع کر دیا۔ تاکہ ان کے وسائل کو کوئی خطرہ نہ ہو۔اور یہی بات فرقہ وارانہ تضادات کی بھی وجہ بنی۔ اور ان تضادات کو ختم کرنے یا ان کا کوئی حل نکالنے کی بجائے ان کو سیاسی مقاصد کے لئے ہوا دی جاتی تھی اور فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ اور آہستہ آہستہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ یہ فرقہ وارانہ تضادات ان دونوں ممالک سے نکل کرآس پاس کے ممالک میں بھی پھیل گیا۔ پاکستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی کی ایک مثال ہیں۔ دونوں فرقے کے لوگوں کے درمیان جب بھی حالات خراب ہوتے تو یہ ممالک اپنے اپنے فرقے کو سپورٹ کرتے اور معاملہ مزید الجھتا۔ اور2011میں ہونے والی عرب سپرنگ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو اختلافات تھے ان کو مزید بڑھا دیا تھا دونوں نے اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے مختلف ممالک کی پشت پناہی کی اور حالات بگڑتے چلے گئے۔ بحرین میں ایران نے حکومت مخا لف لوگوں کو اسپورٹ کیا۔ جبکہ سعودی عرب نے بحرین کی حکومت کی مدد کرنے کے لئے اپنی فوج بھیج دی۔

جبکہ سیریا میں سعودی عرب نے باغیوں کی مدد کی اور ایران نے اس کے الٹ وہاں کی حکومت کا ساتھ دیا۔لبنان میں ایران نے حزب اللہ کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب نے لبنان کی حکومت کو سپورٹ کیا۔اسی طرح میں یمن میں ایران نے حوثی باغیوں کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب دوسری سائیڈ پر تھا۔اور آخر میں اگر اسرائیل کی بات کی جائے تو حماس کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ جبکہ سعودی عرب سرکاری طور پر تو اسرائیل کے ساتھ نہیں ہے لیکن وہ اس کے مخالف بھی نہیں ہے۔ ہاں ایران کو کاونٹر کرنے کے لئے دونوں کے درمیان الائنس ضرور موجود ہے۔یہ صرف کچھ مثالیں تھیں جو کہ میں نے آپ کو دیں یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کسی سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس نے کئی ممالک کو تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب کے حمایتی ممالک میں UAEKuwaitBahrainEgypt
Jordanشامل ہیں۔ جبکہ ایران کے حمایتی ممالک میں عراق اور سیریا شامل ہیں۔ یمن لبنان اور قطر میں Splitپایا جاتا ہے۔ یہی وہ لڑائیاں ہیں جن کی وجہ سے شیعہ اور سنی فرقوںکے درمیان فاصلے ہمیشہ بڑھے ہیں یہ دوریاں کم نہیں ہو رہی ہیں۔
2016میں حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب سعودی عرب نے شیعہ عالم دین نمر النمر کو پھانسی دی تھی اور اس کے بعد ایرانی مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ریاض نے تہران کے ساتھ اپنے ہر طرح کے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔چھ سال بعد آخر یہ تبدیلی آئی امریکہ اس خطے سے نکل گیا۔ اور مختلف ممالک نے تیل پر اپنا انحصار بھی کم کرنے کی طرف توجی دینا شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے اب تیل پراپنی آمدن کا انحصار کرنے والے ممالک کے لئے مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو اپنا Vision 2030پورا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے تو ایران کو ضرورت ہے کہ اس پر سے معاشی پابندیاں ختم ہوں اس کی معیشت بہتر ہو اور وہ ترقی کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ اب یہ دونوں ممالک اپنی لڑائیاں ختم کرکے دوستی کی طرف آنا چاہتے ہیں یعنی معاشی اور سیاسی دونوں مجبوریاں ہیں دونوں کو اپنی تجارت بڑھانی ہے معیشت کو بہتر کرنا ہے جس کے لئے یہ کو ششیں کی جا رہی ہیں کہ اتنی پرانی س=دشمنی کو ختم کیا جا سکے۔