fbpx

دورہ سعودی عرب میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے گی،جوبائیڈن

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ انھوں نے ابھی تک سعودی عرب کے دورے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے-

باغی ٹی وی : ذرائع و ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدرجو بائیڈن نے کہا ہے کہ مملکت کے دورے کا ایک وسیع ایجنڈا ہوگا جس میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے گی۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ واشنگٹن الریاض سے کچھ وعدوں (پر عمل درآمد) کا انتظارکررہا ہے(اگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا)تو کیا ہوگا؟ جس پر صدر بائیڈن نے کہا کہ سعودیوں کے وعدوں کا توانائی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سعودی عرب میں ہونے والی ایک بڑی ملاقات ہے۔

انھوں نے مزید کہا یہی وجہ ہے کہ میں جارہا ہوں اور اس کا تعلق اسرائیلیوں کے لیے قومی سلامتی سے ہے میرا ایک پروگرام ہے ویسے بھی اس کا تعلق توانائی کے معاملے سے تعلق رکھنے سے کہیں زیادہ بڑے مسائل سے ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس پیر کے روزبائیڈن کے سعودی عرب کے دورے کا اعلان کرنے کاارادہ رکھتا ہے اس رپورٹ میں اس معاملے سے متعلق براہ راست معلومات رکھنے والے دو امریکی حکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔

بائیڈن خطے کے وسیع تر دورے کے حصے کے طور پر اگلے ماہ مملکت جائیں گے جس میں اسرائیل میں قیام بھی شامل ہے۔صدربائیڈن کے ایجنڈے میں فی الحال سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات شامل ہے۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن کا مبینہ طور پر جون کے آخر میں ہونے والے بیرون ملک دورے کے دوران سعودی عرب جانے کا بھی ارادہ تھا۔ لیکن جو بائیڈن نے اسرائیل اور سعودی عرب کے ممکنہ دورے کی تاریخ مزید آگے بڑھا دی ہے اور انہوں نے یہ دورہ جولائی تک ملتوی کر دیا تھا-

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی تھی جب سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے پر اتفاق کرتے ہوئے بائیڈن کی دو ترجیحات پر عمل کیا اس سےامریکی افراط زر کو قابوکرنےاور یمن میں جنگ بندی میں توسیع میں مدد مل سکتی ہے۔ سی این این کے مطابق جوبائیڈن سعودی عرب کے حکمران ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

مبینہ طور پر یہ دورہ اس وقت ہوگا جب بائیڈن اس ماہ کے آخر میں سپین میں نیٹو سربراہان کے اجلاس اور جرمنی میں گروپ آف سیون اجلاس میں شریک ہوں گے۔توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسرائیل جائیں گے جہاں انہیں ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ سست رفتار امریکی سفارت کاری کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا-

بائیڈن نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے سپلائی چین میں گڑبڑ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی عوام کو مشتعل کر دیا ہے اور بائیڈن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بائیڈن کی انتظامیہ سعودی عرب کو اس امید پر تیل کی پیداوار بڑھانے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس سے سپلائی کی قلت کو کم کرنے اور قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی-