سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں ابھی طوفان تھما نہیں، سازشیں جاری ہیں،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں فوج کے ذریعے سے بغاوت کی جا سکتی ہے۔ روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر جنگ کا اعلان کیا ،جس کے باعث پٹرول کی قیمت بھی کم ہو گئی۔ شہزادوں اور اعلیٰ قیادت کے نظربند ہونے سے سوالات اٹھے ہیں، اقتدار کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے لیکن جو لوگ اقتدار کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں وہ بھی کمزور لوگ نہیں ہیں، محمد بن سلمان اپنے اقتدار کو مضبوط کر رہے ہیں،سعودی ولی عہد کو صرف دو افراد سے خطرہ ہے ۔ جس میں احمد بن عبدالعزیز اور محمد بن نائف شامل ہیں۔ ان دونوں کے پاس طاقت بھی ہے اور پیسہ بھی ۔ محمد بن سلمان بھی ان دو شاہی افراد سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہ سلمان کی ممکنہ طور پر صحت خراب ہے اس وجہ سے محمد بن سلمان نے یہ انتہائی اقدام اٹھایا، الجزیرہ کے مطابق شاہ سلمان ٹھیک نہیں،شاہ عبداللہ مرحوم کے ایک سابق مشیر جس کے اب بھی روابط ہیں نے بتایا کہ شاہ سلمان نے احمد کو محل میں طلب کیا تا کہ بیٹے سے بیعت کروائے لیکن انہوں نے انکار کیا، شہزادے کو لگتا ہے کہ اگر ٹرمپ کے دور میں وہ تخت پر نہیں بیٹھے تو پھر شاید نہ بیٹھ سکیں.

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی حکومت کو گرانے کے لئے شہزادہ محمد بن نائف کا سی آئی اے کے سابق عہدیداروں نے ساتھ دیا۔ شہزادہ محمد بن نائف کوملک کے اندر اور باہر بہت سے طاقتور افراد کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو بہت سی قوتیں پسند نہیں کرتی ۔اسے لئے ان کی حکومت کو گرانے کی سازش بھی ہوئی۔ سعودی عرب میں فوج کے ذریعے سے بغاوت کی جاسکتی ہے

مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان شدید بیمار ہیں، محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ ان کی حیات میں ہی بادشاہت حاصل کر لی جائے، اگر شاہ سلمان کی زندگی میں محمد بن سلمان بادشاہ نہ بن سکے گے کیونکہ بادشاہ کو روایتی طریقےسے منتخب کیا جاتا ہے۔ محمد بن سلمان کو اس بات کا ڈر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ الیکشن میں ہا ر گئے تو ڈیموکریٹک پارٹی میں ان کو وہ حمایت حاصل نہیں ہوگی، جس سے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کے ٹرمپ کے داماد کے ساتھ بڑے کاروباری تعلقات ہیں ۔ تاہم اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایم بی ایس نے ایسے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں کو حقیقی کنگ مانا جائے۔ محمد بن سلمان کو کنگ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ محمد بن سلمان نے اپنے اقتدار میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے. امریکی حساس ادارے کے افسر کے مطابق اگر امریکی انتظامیہ تبدیل ہو جاتی ہے تو سعودی عرب کے حوالہ سے انکا نقطہ نظر تبدیل ہو جائے گا ، اگر بادشاہ مر جاتا ہے تو محمد بن سلمان کو تخت نہیں ملے گا بلکہ اور لوگوں کو ملے گا، محمد بن نائف تخت کے مضبوط امیدوار ہیں اور انہیں نہ صرف اندر بلکہ باہر سے بھی حمایت حاصل ہے. قطر کا معاملہ، خشوگی کا قتل بھی محمد بن سلمان کے خلاف جا رہا ہے، محمد بن سلمان کے حریف اور نائف کے مشیر سعودی عرب کو مطلوب کینیڈا میں مقیم تھا، اس کو کینیڈا میں مروانے کی کوشش کی گئی، نائف اور احمد قید تو ہیں لیکن ان کے ہمدرد ابھی بھی کام کر رہے ہیں،کچھ لوگوں کا ماننا ہے جب حالات خراب ہوں تو پھر شاید فوج کے ذریعے تبدیلی لائی جائے، بہت کچھ ہو سکتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.