fbpx

سعودی عرب؛ دفاع سمیت 6 وزارتوں کے 78 ملازمین گرفتار

ریاض:سعودی عرب کے محکمہ انسداد بدعنوانی کمیشن نے ذوالحج کے مہینے میں 6 وزارتوں میں رشوت ستانی، جعلسازی اور منی لانڈرنگ کے 78 ملزمان کی گرفتاری اور 116 سے جرائم کی تحقیقات کا آغاز کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے محکمۂ انسدادِ کرپشن نے دفاع، داخلہ، صحت، انصاف، تعلیم اور بلدیات میں کام کرنے والے اعلیٰ سرکاری ملازمین کو رشوت ستانی، جعل سازی اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی نے ذی الحج 1443 ھ کے مہینے میں متعدد فوجداری اور انتظامی مقدمات کی تحقیقات کا آغاز کیا۔

اس دوران 3,207 مانیٹرنگ دورے کیے گئے اور 116 مشتبہ کرپٹ عناصر سے تفتیش کی گئی، جب کہ بدعنوانی کے جرائم میں ملوث 78 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

سعودی عرب نیشنل اینٹی کرپشن کمیشن نے کہا کہ ان ملازمین کو ٹھوس شواہد کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں معاشرے سے بدعنوانیوں اور جرائم کے مکمل خاتمے کے سعودی ولی عہد کے وژن کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ محمد بن سلمان کے 2017 میں ولی عہدہ کے منصب پر فائز ہوتے اُن کے کزنز، شاہی خاندان کے افراد، سیکیورٹی افسران اور سرکاری ملازمین کو بڑی تعداد میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اس طرح دوسرا بڑا کریک ڈاؤن مارچ 2020 کو کیا گیا جس میں 298 افراد کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں اعلیٰ سرکاری افسران اور شاہی خاندان کے کچھ افراد بھی شامل تھے۔