fbpx

سعودی عرب نے روس کیساتھ تیل کی درآمد دگنی کردی

ریاض: تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب نے روس کے ساتھ تیل کی درآمد دگنی کر دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب روسی تیل سے ملکی پاور پلانٹ چلانے لگا ہے۔ روس نے اس سعودی تعاون کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترجمان کریملن ڈمتری پیسکوف نے اپنے بیان میں کہا کہ امید ہے امریکی صدر جوبائیڈن سعودی عرب کو روس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے بجلی کی پیداوار کے لیے دوسری سہ ماہی میں روسی ایندھن کے تیل کی درآمد کو دوگنا کر دیا ہے۔

روس سے تیل کی درآمد کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر جوبائیڈن مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی ہے۔

امریکا اور سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق

یاد رہے کہ ایک طرف سعودی عرب روس سے تیل کے حوالے سے بہت بڑا معاہدہ کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ سے بھی ایک معاہدہ کیا ہے ، جس کے مطابق امریکی صدر سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور خطے کے سیکورٹی کے معاملات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی لین دین اورعالمی تجارتی معاہدوں کی توثیق کررہے ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کی جانب سے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں امریکی صدر کا استقبال،سرخ کارپٹ کی جگہ بنفشی کارپٹ کیوں بچھائے گئے؟

امریکی اور سعودی حکام اس معاملے کو بڑی اہمیت دے رہیں اس حوالے سے مزید پیش رفت بھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دفاع کے لیے فوجی سازوسامان مہیا کرے گا اور خطے میں ایران کی مداخلت روکنے اور ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کے لیے دونوں ملکوں کی جانب سے مل کر کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے، توانائی، سکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلیوں، انسانی بحران اور عالمی تنازعات طے کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب پہنچ گئے: شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پربھی اتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کی درمیان سیاحتی اور تجارتی ویزوں میں دس سال کی توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔