سعودی سفیر نے پاکستانی بچے کو والدین سمیت عمرے کی پیشکش کردی

0
87

عمرے کے لئے جمع کی رقم سیلاب زدگان کو دینے والے کمسن بچے مصطفیٰ کو سعودی سفیر نے والدین سمیت عمرے کی پیشکش کردی۔

پشاور میں کمسن بچے کے جذبہ ایثار نے بڑے بڑوں کو مات دے دی، کیوں کہ نرسری کے طالبعلم نے عمرے کے لیے رکھی رقم متاثرین سیلاب کے لیے وقف کردی۔ پشاور کے رہائشی 4 سالہ مصطفیٰ نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے ایک ایک روپیہ جوڑنا شروع کیا، لیکن سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کر اس نے اپنی ساری جمع پونجی سیلاب زدگان کی امداد کے لیے لگائے کیمپ میں دے ڈالی۔

مصطفیٰ اپنا پیسوں سے بھرا غلک لے کر امدادی کمیپ پہنچا تو ایک شخص نے اس کی ویڈیو بنادی۔ کیمپ میں موجود رضا کار ظفر نے جب بچے سے پوچھا کہ تم کیا لائے ہو، تو بچے نے بے ساختہ کہا کہ میں نے عمرے کے لئے پیسے جمع کئے تھے، وہ اللہ کی رضا کے لئے سیلاب زدگان کے لئے دینے آیا ہوں۔ بچے کی قربانی کا جذبہ دیکھ کر کیمپ میں موجود رضاکار بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، اور ان کی آنکھیں بھر آئیں، جب کہ اسی کیمپ میں موجود ایک رضا کار نے اپنی جیب سے بچے کو نقد انعام بھی دے دیا۔

یہ ویڈیو سبوخ سید نے ٹوئیٹ کی تاہم پاکستان میں قائم سعودیہ سفارت خانہ کی طرف سے رابطہ کرنے پر انہوں نے دوبارہ ٹوئیٹ کی کہ: "سعودی سفارت خانے نے ابھی رابطہ کیا ہے اور وہ اس بچے کو عمرے پر بھیجنا چاہتے ہیں.”

انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق: آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اور سماجی شخصیت ظفر خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی سربراہی میں ایک کیمپ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں قائم کیا گیا تھا، جہاں ریکارڈ کی خاطر اکثر منتظمین کیمپ کی سرگرمیوں کو فلم بند کرتے رہتے ہیں۔ ظفر خٹک نے بتایا کہ جب ایک چھوٹا بچہ ہاتھ میں نیلے رنگ کا گُلک لیے سٹیج پر آیا تو وہ چونک گئے۔ انہوں نے بتایا: ’جب بچے سے بات ہوئی اور اس نے یہ کہا کہ یہ اسے اپنے والدین اور رشتہ داروں سے ملنے والے پیسے تھے، جو اس نے عمرے کے لیے جمع کیے تھے، لیکن اب وہ چاہتا تھا کہ یہ پیسے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے استعمال ہوں، تو میں اپنے آنسوؤں کو مزید نہ روک سکا۔‘

پیسے عطیہ کرنے والا بچہ کون ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق: جب اس بچے کے والد حکیم زادہ سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کا نام احمد مصطفیٰ ہے اور اس کی عمر بمشکل پانچ سال ہے۔ حکیم زادہ نے بتایا کہ وہ بنیادی طور پر ضلع مالاکنڈ کے علاقے تھانڑہ سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم کاروبار اور بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں وہ کئی سالوں سے پشاور میں مقیم ہیں.

Leave a reply