fbpx

سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

بگ بینگ کوئی دھماکہ نہیں تھا کہ کسی نے پریشرککر میں بارود ڈال کر اُڑا دیا ہو بلکہ آج ہم سائنس میں جسے بگ بینگ کہتے ہیں یہ دراصل آج سے 13.8 ارب سال پہلے کا وہ واقعہ ہے جب کائنات وجود میں آئی اور تیزی سے ایک نقطے سے پھیلنے لگی۔ وقت اور خلا جسے سائنس میں سپیس ٹائم کہا جاتا ہے یہ بھی تب ہی وجود میں آئے۔ چونکہ وقت کی ابتدا بگ بینگ سے ہوتی ہے لہذاٰ یہ سوال کچھ عجیب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وقت سے پہلے کیا تھا؟ ہمارا ذہن یہ سوال سمجھ نہیں پاتا۔

اس بارے میں کئی سائنسی مفروضے ہیں(یاد رکھیں سائنس میں مفروضے اور تھیوری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مفروضے ثابت نہیں ہوئے ہوتے جبکے تھیوری کئی تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہوتی ہے)۔مثال کے طور پر ایک مفروضہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں بنی ہونگی جنہیں ہم ملٹی ورس کہتے ہیں۔ اور ممکن ہے وہاں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے مختلف ہوں۔۔یا یہ کہ بگ بینگ کسی پچھلی کائنات میں بلیک ہول ہو جو ہماری کائنات کا بیچ ہو یا شاید ہم کسی بلیک ہول میں رہنتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ فی الحال سائنسی مفروضے ہیں انکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کائنات میں شاید کسی پچھلی کائنات کی کوئی نشانیاں موجود ہوں جنہیں ہم مستقبل میں ڈھونڈ سکیں مگر فی الوقت سائنس اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جو بات سائنس حتمی طور پر کہہ سکتی ہے وہ یہ کہ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی اور آج بھی کائنات پھیل رہی ہے۔ پھیلنے کو یوں سمجھیں کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یعنی انکے بیچ میں موجود خلا مزید پھیل رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیکیسکوپ بگ بینگ کے 10 کروڑ سال بعد کی کائنات دیکھ سکتی یے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں ہبل ٹیلی سکوپ بگ بینگ کے 40 کروڑ سال بعد کی کہکشائیں دکھا سکتی تھی۔

مستقبل میں شاید ہم جیمز ویب سے کوئی ایسا کائناتی مشاہدہ کر سکیں جس سے ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ڈارک میٹر/انرجی چونکہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ عام مادے سے کوئی تال میل رکھتے ہے اسی لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم انکا محض گریوٹیشنل اثر جانتے ہیں جو کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کی غیر معمولی گردش کو بیان کرتا ہے۔

مگر 1971 میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ خیال پیش کیا کہ ممکن ہے بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں بہت سا مادہ بلیک ہولز میں تبدیل ہو گیا ہو اور کائنات میں کئی بلیک ہولز چھپے ہوئے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ نہیں سکے۔ یہ ایک متنازع خیال ہے کیونکہ آج کے مشاہدوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بلیک ہول دراصل سورج سے کئی گنا ماس میں بڑے ستاروں کے انجام پر بنتے ہیں۔

اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے ہم کئی اور نئے مشاہدے کر سکیں گے۔ ممکن ہے ہم دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے کئی سیاروں کی فضاؤں سے آنے والی مدہم سی روشنی کو اسکے حساس آلات سے پڑھ سکیں اور اس روشنی میں اُن گیسوں کے آثار ڈھونڈ سکیں جو کوئی ذہین مخلوق ہی بنا سکتی ہو مثال کہ طور پر صنعتی گیسز جو قدرت میں نہیں پائی جاتیں اور صرف انسان بنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ جان پائیں کی کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔ زندگی ہم سے اربوں سال دور کسی اور زمین نما سیاروں پر موجود ہو۔

یاد رکھیں کائنات انہی کو جواب دیتی ہے جو سوال کرتے ہیں۔ وہ جو یہ سوچ کے بیٹھے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے، اندھیرے میں ہیں۔