fbpx

سیاست اور عیاشیاں تحریر: ذیشان اخوند خٹک

سیاست اور عیاشیاں

سیاست ایک ایسا معزز شعبہ ہے جس کو کوئی صحیح طریقے سے نبھائے تو وہ عبادت کے زمرے میں آجاتی ہے. تاریخ گواہ ہے کہ پہلے پہل صحابہ رضی اللہ عنہ نے ایسے ایسے حکمرانی کی جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور ان حکومتوں کی تعریف صرف مسلمان نہیں بلکہ کافر بھی کرتے ہیں. وہ ایسی سلطنت بنی تھی جس میں تپتی صحرا میں بھی خاتون کو خود محفوظ سمجھتی تھی.

سیاست اور عیاشی کا تعلق بہت قریب رہا ہے اور عیاشیوں کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنت زمین بوس ہوگئی.
آج مسلمانوں کی غالب اکثریت جوکروڑوں تک جاپہنچی ہے مگر پھر بھی لاچار زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خستہ حالی ان کامقدر بنی ہوئی ہے اور ان کی معیشت اور نظام تباہی کا شکار ہے۔ ان سب کی سے بڑی وجہ حکمرانوں کی عیاشیاں ہے.

مسلمانوں کی برصغیر پر ایک عظیم حکومت تھی مگر  جب مسلمان حکمرانوں نے عیاشیاں شروع کردی اور انگریزوں نے برصغیر کی تجارت اپنے ہاتھ میں لے لی.
تو پھر مسلمانوں پر ایسا وقت بھی آیا کہ مسلمانوں کے حکمران جیل کی سلاخوں میں بند ہوگئے اور اپنے وطن میں دفن ہونے کی آرزو بھی پورا نہیں ہوئی.

جس وقت یورپ کے حکمران بہترین کالج، ریسرچ سنٹر اور یونیورسٹیاں بنا رہے تھے اس وقت ہمارے عیاش حکمران تاج محل، باغات تعمیر کررہے تھے. اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمران قوم کی ترقی میں سنجیدہ تھے یا عیاشیوں میں؟

پاکستان کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے نہیں ہے بلکہ تمام عالم اسلام کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے ہوئے ہے. میڈیا میں ایک عرب شہزادے فیصل بن فہد کی خبر شائع ہوئی جس نے جوئے کی ایک میز پر 10کھرب ڈالر (یعنی تقریباً چھ سو کھرب روپے) ہارے.
عرب حکمرانوں نے اپنے عیاشیوں کیلئے دبئی جیسا شہر بنا ڈالا.

پاکستان کے اہم محکموں کے دفاتر میں حریم شاہ جیسے فحاش لڑکیاں کا آنا جانا لگا رہنا اور وہاں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا عام بات بن گئی ہے. پاکستان کے حکمرانوں کی عیاشیوں میں جنرل رانی کا نام سرفہرست ہے جس نے اپنے حسن کے جلوے دیکھا کر ملک کی اہم ترین خاتون بن گئی اور صدر پاکستان ان کے انگلیوں پر ناچتے تھے. جس ملک میں اتنی فحاشی پھیلی ہوئی ہوں اس میں سابق گورنر سندھ زبیر عمر کی ویڈیو تو ایک ذرہ ہے. یہ تو اس ملک کی معمول بن چکا ہے کہ اعلیٰ افسران اور سیاست دان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر ان کو ہراساں کرتے ہیں.

"پارلیمنٹ سے بازار حسن تک ” کتاب نے اس لئے شہرت حاصل کی کہ اس میں پارلیمنٹ سے جڑے لوگوں ، حکومتی ایوانوں اور سیاستدانوں کے عیاشیوں کے قصے لکھے ہوئے تھے.
نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں طاہرہ سید کو پرائم منسٹر ہاوس میں "خاتون اول "کا درجہ حاصل تھا دونوں کے عیاشیوں کے قصے کسی سے ڈھکے چھپے نہ رہے. طاہرہ سید کو بہت مالی فوائد حاصل ہوئے اور میاں صاحب نے مری میں پنجاب ٹورازم ڈویلپمینٹ کارپوریشن کی چئیر لفٹ بھی طاہرہ سید کو دے دی.
اس کتاب میں پاکستان کے سیاستدانوں کے وہ عیش پرستانہ واقعات لکھے گئے ہیں جس پر ایک محب وطن کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہے.

ٹوئٹر ہینڈل : @ZeeAkhwand10

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!