fbpx

ایس بی سی اے کو غیر قانونی تعمیرات کیخلاف عملی کارروائی کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ایم پی آر کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کیخلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو عملی کارروائی کاحکم دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ایم پی آرکالونی بلوچ گوٹھ میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ایس بی سی اے حکام کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ایس بی سی اے کو غیر قانونی تعمیرات کیخلاف عملی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے چھ ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ایس بی سی اے حکام سے استفسار کیا کہ اب تک غیر قانونی عمارت کو مسمار کیوں نہیں کیا گیا؟، جس پر وکیل ایس بی سی اے نے عدالت کو بتایا کہ عمارت کٹی پہاڑی کے اس طرف ہے، کارروائی میں صورتحال خراب ہوسکتی ہے، جسٹس حسن اظہررضوی نے کہا کہ کیاکٹی پہاڑی کراچی میں نہیں ہے؟، کارروائی مکمل کرکےرپورٹ پیش کریں۔

عدالت نےسب رجسٹرار کو عمارت کی کسی بھی قسم کی رجسٹریشن سےروک دیا جبکہ کے الیکٹرک، ایس ایس جی سی اور واٹربورڈ کو بھی عمارت میں کسی بھی کنکشن کی فراہمی سے روک دیا، عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ جب تک ایس بی سی اے کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے، رجسٹریشن نہ کی جائے۔

واضح رہے کہ ایس بی سی اے نے 5منزلہ غیرقانونی عمارت کی تعمیر سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی، رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایم پی آرکالونی میں تعمیر عمارت کی کوئی منظوری نہیں لی گئی ، ایم پی آر کالونی کا علاقہ گوٹھ آباد اسکیم میں آتاہےجہاں ایسی تعمیرات کی اجازت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ایس بی سی اے کو ایم پی آرکالونی میں غیرقانونی عمارت گرانے اور بلڈرکیخلاف کارروائی کا حکم دے رکھا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!